اکّالُ الرجال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۶
اسلامی تاریخ کے بعد کے زمانے میں وہ ہونے والا تھا کہ عالمی حالات میں تبدیلی کے نتیجے میں قتال کا طریقہ ایک متروک طریقہ بن جائے ۔ حالات میں ایسا انقلاب آئے کہ پرامن طریق کارپوری طرح نہ صرف ممکن ہو جائے ، بلکہ وہ واحد مؤثر طریقے کی حیثیت اختیار کر لے۔ صرف پر امن دعوت کے ذریعے وہ سب کچھ قابلِ حصول بن جائے جو قدیم زمانے میں صرف جنگ و قتال کے ذریعے قابلِ حصول سمجھا جاتا تھا۔
پُر امن طریق دعوت کی مثال خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مکی دور میں پوری طرح موجود ہے۔ مگر حالات کے تقاضے کے تحت ایسا ہوا کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر اسلام کو دفاعی طور پر جنگ میں حصہ لینا پڑا۔ اس طرح پیغمبر اسلام کی زندگی میں دونوں طرح کی مثالیں شامل ہوگئیں۔ اب ضرورت تھی کہ بعد کے زمانے کی نسبت سے، پرامن طریق کار کو ممیز طور پر (distinctively) بیان کیا جائے۔ دراصل یہی مقصد ہے جس کے لیے مسیح کی آمد ثانی (second coming of Christ) کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ مسیح کی آمد ثانی سے مراد دراصل مسیحی ماڈل کی آمد ثانی ہے۔ یہ بات دراصل دورِ آخر کے تبدیل شدہ حالات کی نسبت سے کہی گئی ہے۔ اس میں دراصل داعی کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تاریخ کے بعد کے زمانے میں مسلح طریق کار سے کامل پرہیز کرے، دعوت کے لیے یہ صرف پرامن طریق کار کو استعمال کرے جو کہ دعوتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے واحد مؤثر طریقہ بن جائے گا۔ حدیث میں مستقبل کے جس واقعے کو مسیح کی آمد ثانی کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اُس واقعے کو بالفاظ دیگر، مکی ماڈل کی آمد ثانی کہا جا سکتا ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے، پہلے بیان اور دوسرے بیان میں کوئی فرق نہیں۔
اصل یہ ہے کہ قرآن میں جن انبیا کا ذکر ہے، اُن میں سے ہر ایک مختلف حالات میں آیا۔ ہر ایک نے اپنے زمانی حالات کے اعتبار سے، ایک طریقہ اختیار کیا۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لکل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا (48: 5)۔ ان میں سے ہر نبی کا نمونہ ایک معیاری نمونہ ہے۔ حالات جس نمونے کا تقاضا کر رہے ہوں، اُس نمونے کو اختیار کر لیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues