Al-Risala · July 2011 · page 37

اکّالُ الرجال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۷

ایسا کرنا بالکل درست قرار پائے گا، خواہ وہ نمونہ کسی بھی پیغمبر سے تعلق رکھتا ہو۔ حضرت مسیح نے اپنے حالات کے لحاظ سے خالص پر امن دعوتی عمل کا طریقہ اختیار کیا۔ اس اعتبار سے حضرت مسیح پرامن دعوتی عمل کے لیے ایک امتیازی ماڈل بن گئے۔ تاریخی طور پر ان کے ماڈل میں پر امن طریقے کے سوا کوئی اور طریقہ شامل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے دور کے حالات میں پرامن دعوتی عمل کے لیے مسیحی ماڈل کو بطور حوالہ (reference) استعمال کیا گیا۔ سوال اسلام میں ترک دنیا کا تصور کیا ہے، تزکیہ سے اس کا کیا ربط ہے، نیز دنیا سے تعلق کی نوعیت کیا ہے، براہِ کرم، اس کو واضح فرمائیں (شارق حسین، دہلی)

جواب

دنیا سے تعلق کی تین صورتیں ہیں ۔ دنیا میں ملوث ہونا، دنیا کو ترک کرنا، دنیا کو اعلیٰ مقصد کے لئے استعمال کرنا۔ پہلی صورت، دنیا میں پوری طرح ملوث ہونا ہے۔ اس کو دنیا پرستی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی چیزوں ہی کو اپنا مقصود بنالیں، جو اپنی تمام صلاحیتیں دنیا کو پانے کے لیے وقف کر دیں، جو دنیا کی کامیابی کو کامیابی سمجھیں اور دنیا کی ناکامی کو ناکامی۔ قرآن کے مطابق، یہ پورے معنوں میں بھٹکے ہوئے لوگ ہیں (103-104 :17)۔

اس معاملے میں دوسری قسم وہ ہے جس کو ترک دنیا کہا جاتا ہے، یعنی دنیا کے لوگوں سے اور دنیا کی چیزوں سے کنارہ کشی کر کے الگ تھلگ زندگی گزارنا۔ یہ لوگ بطور خود اس کو بہتر سمجھتے ہیں، مگر یہ صرف غلو (extremism) ہے اور غلو اسلام میں نہیں ہے (لاغلو فی الإسلام)۔

تیسری صورت ہے ۔ دنیا کو اعلیٰ ربانی مقصد کے لیے استعمال کرنا۔ دنیا سے تعلق کی یہی صورت درست ہے اور یہی اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے۔

ترک دنیا، ترک دعوت ہے۔ دنیا کیا ہے، دنیا خدا کی تخلیق ہے۔ اور جو چیز خدا کی تخلیق ہو، وہ اصلاً برائی نہیں ہو سکتی۔ حدیث میں آیا ہے : إن الدنيا خُلقت لكم، وأنكم خُلقتم للآخرة (تخريج

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page