اکّالُ الرجال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸
الاحیاء للعراقی، (3/252)۔ اس حدیث سے دنیا کی صحیح نوعیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ کا راستہ دنیا سے ہو کر گزرتا ہے۔ دنیا کی چیزوں کا صحیح استعمال ہی تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سوال سوال یہ ہے کہ جب ہم سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہیں، ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں، تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم نے الگ الگ فرقے اور مسلک بنا لئے ہیں۔ (ایس امین باشا، کرناٹک)
جواب
مسلمانوں میں مسلک کی بنیاد پر جو مختلف گروہ ہیں، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، سلفی، یہ تمام گروہ بعد کے زمانے میں بنے ہیں۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں یہ گروہ موجود نہ تھے۔ جو گروہ بندی دورِ اول میں نہ ہو اور بعد کے زمانے میں وجود میں آئی ہو، وہ اپنے آپ میں قابلِ رد ہے۔ یہ مختلف گروہ فقہی مسلک کی بنیاد پر بنے ہیں، لیکن کوئی بھی گروہ کسی بنیادی اختلاف کے تحت نہیں بنا ہے، بلکہ وہ صرف جزئیات میں اختلاف کے تحت بنا ہے۔ یہ جزئی اختلافات بے اصل نہیں ہیں، وہ خود صحابہ کے درمیان موجود تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ کے زمانے میں ان جزئیات کی بنا پر الگ الگ گروہ نہیں بنے، مگر بعد کے زمانے میں انھیں جزئیات کو لے کر الگ الگ گروہ بن گئے۔
اس فرق کا سبب جزئیات میں غلو (extremism) ہے۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں یہ تصور تھا کہ جزئیات میں توسع ہے، یعنی اُن میں سے جس پر چاہو، عمل کر سکتے ہو، تم ہدایت پر رہو گے (بأيهم اقتديتم اهتديتم)۔ لیکن عباسی دور کے فقہاء نے جزئیات کے معاملے میں غلو کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ہر ایک درست نہیں ہوسکتا، ایک درست ہوگا تو دوسرا غلط ہوگا۔ انھوں نے غیر ضروری بحثوں کے ذریعے تعدد میں توحُّد پیدا کرنے کی کوشش کی، یعنی کئی کو ایک بنانا۔ جزئیات میں اسی غلو یا تشدد کی بنا پر مختلف فقہی گروہ بن گئے۔
قرآن اور حدیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ غلو اسلام میں نہیں ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues