اکّالُ الرجال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹
یہ ہے کہ مسلمان، صحابہ اور تابعین کے دور کی طرف لوٹیں۔ وہ اس اصول کو مان لیں کہ یہ مختلف فقہی مسلک مبتدعانہ طور پر وجود میں آئے ہیں۔ وہ قابل ترک ہیں، نہ کہ قابل پیروی۔ سوال نصاب زکوٰۃ کے تعلق سے قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء کرام وائمہ دین کے فتویٰ سے مندرجہ ذیل سوال کی عامۃ المسلمین کی ہدایت ورہنمائی کے لئے تصریح فرما کر مشکور فرمائیں: 1- نصاب زکوٰۃ کا تعین 7.5 تولہ سونا یا 52.5 تولہ چاندی یا ان کی مالیت کے بقدر کیش سے کیا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ گذشتہ زمانہ میں 7.5 تولہ سونا کی قیمت 52.5 تولہ چاندی کے مساوی رہی ہو، لیکن فی زمانہ ان دھاتوں کی قیمت میں تقریباً 1.40 کا تناسب ہے، یعنی 7.5 تولہ سونا کی قیمت 1,57,000 = 21,000 x 7.5 روپے اور 31,500 = 600 x 52.5 روپے ۔ اب تک علماء کرام 52.5 چاندی یا اس کی قیمت کو ہی نصاب زکوٰۃ مقرر کرتے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں :
الف: 7.5 تولہ سونا کی قیمت کو نصاب کیوں نہ مانا جائے ۔
ب: 7.5 تولہ سونا اور 52.5 تولہ چاندی کی قیمت کے اوسط (تقریباً 90 ہزار روپے) کو معیار تسلیم کیوں نہ معیار تسلیم کیا جائے۔
2- شافعی مسلک میں استعمالی زیورات زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں، جب کہ حنفی مسلک میں استعمالی زیورات پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ موجودہ دور میں عام مسلمان کو نہ تو مسالک کا علم ہے اور نہ ہی وہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اس لئے شافعی مسلک کو اختیار کرنے میں کیا قباحت ہے۔ 3- لڑکی کو بوقت نکاح اس کے والدین اور شوہر کی طرف سے زیورات جہیز یا تحفہ میں دئے جاتے ہیں اور وہ صاحب نصاب ہو جاتی ہے۔ لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے کسی آمدنی کے ذریعہ کا مالک نہیں بنایا جاتا۔ شوہر بیوی کے سرمایہ کی زکوٰۃ کیوں دے۔ اور اگر شوہر کی آمدنی زکوٰۃ ادا کرنے کی متحمل ہو تو ایسی حالت میں کیا کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues