Al-Risala · July 2011 · page 40

اکّالُ الرجال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۴۰

الف: متوسط کلاس میں زیور پشت در پشت چلتا ہے۔ اگر زیور فروخت کر کے زکوٰۃ دی جاتی ہے تو وہ روپیہ ایک سال میں ہی خرچ ہو جائے گا اور فیملی مفلس ہو جائے گی، نیز اپنے بچوں کی شادی کے وقت مقروض۔ ان حالات میں شرعی احکامات کیا ہیں۔

-4 متوسط طبقہ میں مشترکہ خاندانی نظام قائم ہے۔ شادی شدہ جوڑے کے پاس نصاب کے مطابق زیور ہے، لیکن آمدنی بہت قلیل ہے۔ ضروریات زندگی کا بار بھی والدین کے ذمہ ہے۔ اس صورت میں کیا کفالت کرنے والے ان کی زکوٰۃ بھی ادا کریں یا یہ جوڑ ا زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔ -5 علی کے پاس نصاب کے مطابق کیش تھا۔ اس نے قسط اسکیم کے تحت مکان مکان؍زمین کار خرید لی اور وہ کئی سال کے لئے زکوٰۃ سے بری ہو گیا۔ دوسری طرف حسین کے پاس بھی روپیہ ہے، لیکن وہ یک مشت قیمت دے کر مکان مکان؍زمین؍کار کار خریدنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ ہر سال کچھ رقم پس انداز کرتا ہے۔ کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا وہ علی کی طرح زکوٰۃ سے بری۔ (شجاع الدین، علی گڑھ) جواب عرض ہے کہ مذکورہ قسم کے مسائل میں محتاط طریقہ یہ ہے کہ آپ کو مرّوجہ مسالک میں سے جس مسلک پر اطمینان ہو، آپ اُس پر عمل کریں۔ بالفرض آپ کو کسی مسلک پر اطمینان نہ ہو تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ ذاتی طور پر اپنی دریافت کے مطابق عمل کریں۔ اس معاملے کو بحث کا موضوع بنانا صرف اختلاف میں اضافہ کرے گا، اور اسلام میں ہر وہ اقدام غلط ہے جو اختلاف میں اضافے کا سبب بنے (الخلاف شر) ۔ وہ اصلاح، اصلاح نہیں جس کا نتیجہ مزید اختلاف کی صورت میں نکلنے والا ہو۔ مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:

A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mahatwana, Phulwarisharif, Patna-601505 Mob. 9308477841, 0612-3255435

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page