نیا منصوبہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۷
یہ ہے: یا حسرۃً علی العباد، ما یأتیہم من رسول إلا کانوا بہ یستہزؤن (36:30) یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ توحید اور امن سے انحراف توحید کے معاملے میں انسان نے یہ انحراف کیا کہ اُس نے خالق کے بجائے مخلوق کی پرستش شروع کردی۔ مخلوقات میں جو چیز بھی نمایاں نظر آئی، مثلاً سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر، وغیرہ ہر چیز انسان کے لیے پرستش کا موضوع بن گئے۔ اس معاملے کو مذاہب کی تاریخ میں فطرت کی پرستش (nature worship) کہا جاتا ہے۔ مظاہر فطرت میں چوں کہ تعدد (diversity) تھا، اس لیے لوگوں کے معبود بھی متعدد ہوگئے۔ اِسی تعددِ الہہ کے تصور کو قرآن میں شرک کہا گیا ہے۔ اسی قسم کا انحراف امن کے معاملے میں پیش آیا۔ انسان اپنے مقصد کو پر امن جدوجہد کے بجائے، پر تشدد جدوجہد کے ذریعے حاصل کرنے لگا۔ اس طرح پوری تاریخ جنگ اور ٹکراؤ کی تاریخ بن گئی— قبائلی سرداروں کے درمیان جنگ، راجاؤں کے درمیان جنگ، بادشاہوں کے درمیان جنگ، وغیرہ۔ فطرت کے نظام میں یہ انحراف حضرت نوح کے زمانے میں شروع ہوا۔ وہ مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم کا زمانہ آگیا۔
نیا منصوبہ
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کا خلاصہ یہ تھا کہ نظریاتی طور پر انسان کے لیے توحید اور امن ہی واحد آپشن (option) کے طور پر باقی رہے۔ توحید اور امن کے سوا دوسرے آپشن کے لیے کوئی نظریاتی جواز (ideological justification) باقی نہ رہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا تھا، البتہ یہ ممکن تھا کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ انسان کے لیے اس معاملے میں نظریاتی جواز باقی نہ رہے۔
یہ منصوبہ معجزاتی طور پر اچانک ظہور میں نہیں آسکتا تھا، اس عالم امتحان میں یہی ممکن تھا کہ اس منصوبے کو اسباب کے ماحول کے تحت ظہور میں لایا جائے۔ چناں چہ ایسا ہی کیا گیا۔ اس منصوبے کے آخری مرحلے کا ذکر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues