Al-Risala · August 2011 · page 8

نیا منصوبہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۸

قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله (8:39) یعنی اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے، وہ کوئی سیاسی واقعہ نہیں ہے، وہ تمام تر ایک نظریاتی واقعہ ہے۔ اس میں اُس خدائی منصوبے کا ذکر ہے جس کا آغاز ہاجرہ اور اسماعیل سے ہوا اور اصحاب رسول پراسس ایک مرحلہ مکمل ہوا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں تاریخ میں یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ انسان کے لیے نظریاتی اعتبار سے، شرک کا آپشن ختم ہوگیا۔ اسی طرح نظریاتی اعتبار سے، انسان کے لیے جنگ کا کوئی جواز نہیں رہا۔

چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ وہاں انھوں نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہوچکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کا آغاز اس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں اُنھیں اس غیر آباد ماحول میں بسادیا۔ اس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی خصوصی جدوجہد کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ اس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا پراسس کا جاری ہوا جو بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل کو پہنچا۔

اسی تاریخی پر اس (historical process) کے وہ نتائج ہیں جن کو ہم موجودہ زمانے میں دیکھتے ہیں۔ مثلاً انسانی مساوات، مذہبی جبر کا خاتمہ، جمہوریت اور سائنسی انقلاب جس کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس اور جدید کمیونیکیشن کا دور دنیا میں آیا۔ اس کے علاوہ، فطرت (nature) کے نئے حقائق دریافت ہوئے جو دینِ توحید کے لیے تصدیق کی حیثیت رکھتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page