Al-Risala · August 2011 · page 9

نظریاتی جواز کا خاتمہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۹

نظریاتی جواز کا خاتمہ

اس جدید انقلاب کے نتیجے میں جو موافق باتیں پیدا ہوئیں، اُن میں سے دو خاص چیزیں یہ تھیں کہ نظریاتی طور پر توحید اور امن کے سوا کوئی اور انتخاب انسان کے لیے باقی نہ رہا۔ سائنسی دریافتوں (scientific discoveries) کے نتیجے میں ایک طرف یہ ہوا کہ توحید اب ایک ثابت شدہ علمی حقیقت بن گئی۔ اب کوئی شخص اس امتحان کی دنیا میں اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے توحید سے انحراف کر سکتا ہے، لیکن خالص اصولی اعتبار سے اس کے لیے اپنے انحراف کا کوئی نظریاتی جواز (ideological justification) موجود نہ ہوگا۔

یہی معاملہ امن کے اصول کا ہے، جو کہ صحت مند سماجی تعمیر کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ مسلح طاقت ہی اصل طاقت ہے۔ کوئی بڑا مقصد صرف مسلح طاقت کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جدید انقلاب کے ذریعے یہ قدیم مفروضہ یکسر بدل گیا ہے۔ اس تبدیلی کے دو خاص پہلو ہیں— ایک، یہ کہ موجودہ زمانے میں جدید حالات کے نتیجے میں ایک نئی چیز ظاہر ہوئی ہے جس کو ایک لفظ میں مواقع کا انفجار (opportunity explosion) کہا جاسکتا ہے۔ ان مواقع کو استعمال کرکے آج ہر مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اب کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جنگ یا سیاسی طاقت کی قطعا ضرورت نہیں۔ قدیم زمانے میں سیاسی ایمپائر (political empire) ہوا کرتے تھے، آج اُس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر غیر سیاسی ایمپائر (non-political empire) بنانا ممکن ہوگیا ہے۔

دوسری چیز وہ ہے جس کو عمومی تخریب کے ہتھیار (weapons of mass destruction) کہا جاتا ہے۔ ان نئے ہتھیاروں کے ظہور میں آنے کے بعد اب جنگ انسان کے لیے سرے سے کوئی آپشن ہی نہ رہا۔ اب جنگ کا مطلب صرف تباہی ہے۔ اب کوئی بھی مثبت نتیجہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح امن اب انسان کے لیے واحد آپشن (option) بن گیا۔ اب انسان کے لیے جو آپشن ہے، وہ امن اور جنگ کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ امن اور تباہی کے درمیان ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page