Al-Risala · August 2011 · page 10

تاریخِ کائنات کا پہلا دور

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۱۰

آج کے انسان کو یا تو امن کا طریقہ اختیار کرنا ہے یا اپنے آپ کو تباہی کے حوالے کر دینا ہے۔ اس طرح اب تاریخِ انسانی کا سفر اُس مقام پر پہنچ گیا ہے جس کی طرف قرآن کی مذکورہ آیت (وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدين كله لله) میں اشارہ کیا گیا تھا۔ تاریخ میں یہ انقلاب اتفاقی طور پر پیش نہیں آیا، وہ براہِ راست خدا کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ خدا نے تاریخی عمل (historical process) کو اس طرح مینج (manage) کیا کہ وہ ایک ایسے انجام تک پہنچے جو دعوت حق کے کام کے لیے آخری حد تک موافق ہو۔

تاریخِ کائنات کا پہلا دور

کائنات کو اس کے خالق نے ایک بامقصد کائنات کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل ایک تدریجی اصول پر قائم ہے۔ اس لحاظ سے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کی ابتدائی تاریخ 6 بڑے ادوار (periods) پر مبنی ہے۔ یہ 6 ادوار حسب ذیل ہیں:

1۔ بگ بینگ (Big Bang) 2۔ لٹل بینگ (Little Bang)

3۔ واٹر بینگ (Water Bang) 4۔ پلانٹ بینگ (Plant Bang)

5۔ اینمل بینگ (Animal Bang) 6۔ ہیومن بینگ (Human Bang)

سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً 15 بلین سال پہلے خلا (space) میں ایک عظیم دھماکا ہوا جس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اُس وقت کائنات کے تمام اجزا (particles) ایک سپراٹیم کے اندر جمع تھے۔ اس سپراٹیم (super atom) میں دھماکا ہوا، اس کے بعد اس کے مادی اجزا وسیع خلا میں پھیل گئے۔ پھر یہ مادی اجزا مختلف اجسام کی صورت میں جمع ہوئے اور وہ مادی دنیا وجود میں آئی جس کو ستارے (stars) اور سیارے (planet) کہا جاتا ہے۔

غالباً ایک بلین سال پہلے ایک ستارہ (star) میں لٹل بینگ (Little Bang) کا واقعہ ہوا۔ اُس کے بعد اس ستارے کے مختلف ٹکڑے ہو گئے۔ اس کے بعد خلا (space) میں وہ مجموعہ بنا جس کو شمسی نظام (Solar System) کہا جاتا ہے۔ یہ شمسی نظام ہماری قریبی کہکشاں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page