اجتماعی انقلاب کا دور
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۱۲
کے مطابق، یا تو انعام پائے گا یا وہ سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ پیغمبروں کی آمد کا یہ سلسلہ ہزاروں سال تک جاری رہا۔ مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ یہ تمام پیغمبر صرف انفرادی اعلان (announcement) کے درجے میں اپنا کام کر سکے، اُن کا مشن اجتماعی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔
اجتماعی انقلاب کا دور
اس کے بعد تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک نئی نسل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ تقریباً ڈھائی ہزار سال کے عرصے میں یہ نسل بن کر تیار ہوئی۔ اس نسل کو تاریخ میں بنواسماعیل (Ishmaelites) کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی کوششوں کے ذریعہ وہ گروہ بن کر تیار ہوا جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دعوتِ نبوت، اعلان سے آگے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ گئی۔ یہاں اس سلسلے کی چند مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان مثالوں کے ذریعے یہ واضح ہو سکے گا کہ دعوت نبوت کا اعلان سے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ جانے کا مطلب کیا ہے۔
1- قرآن کی سورہ الانفال میں یہ آیت آئی ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدين كله لله (8: 39)۔ یہ آیت مدنی دور میں اتری۔ قرآن کی اس آیت میں ایک آنے والے مستقبل کی خبر دی گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اصحاب رسول کی جدوجہد سے دنیا میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) جاری ہوگا۔ اس پر اس کی تکمیل یہ ہوگی کہ دین سب کا سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ اس سے مراد دین کی سیاسی حکومت (political rule) نہیں ہے، بلکہ دین کا نظریاتی (ideological) غلبہ ہے، یعنی دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا غیر مدلل ہو جانا، دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا نظریاتی جواز (ideological justification) سے محروم ہو جانا۔ یہ واقعہ موجودہ زمانے میں مکمل طور پر پیش آ چکا ہے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے، اس لیے یہاں قیامت سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے ان کی آزادی چھین لی جائے۔ آزادی کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues