اجتماعی انقلاب کا دور
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳
غلط استعمال کا موقع آدمی کے لیے پہلے بھی تھا اور وہ آج بھی باقی ہے۔ لیکن جہاں تک نظریاتی جواز (ideological justification) کی بات ہے، وہ دینِ خداوندی کے سوا کسی اور دین کے لیے باقی نہیں رہے گا۔ اس انقلابی عمل کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کے ذریعے ہوا اور بیسویں صدی کے آخر میں یہ عمل اپنے اختتام تک پہنچ گیا۔ اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ اکیسویں صدی میں جو کام کرنا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ پیدا شدہ مواقع کو بھر پور طور پر دعوت حق کے لیے استعمال کیا جائے۔ 2- قرآن کی سورہ البقرہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (companions) کی طرف سے یہ دعا منقول ہوئی ہے: ربنا، ولا تحمل علينا إصراً كما حملته على الذين من قبلنا (286: 2) یعنی اے ہمارے رب، تو ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اس دعا میں ’’ہم‘‘ سے مراد صرف اصحاب محمد نہیں ہیں، تو وسیعی معنوں میں یہ دعا پوری امتِ محمد کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگی گئی ہے، وہ یقیناً پوری ہوئی، لیکن یہ اُسی وقت ساتویں صدی میں پوری نہیں ہوئی، بلکہ وہ ایک پراسس (process) کے طور پر انسانی تاریخ میں جاری ہوئی اور وہ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر مکمل ہوئی۔
اب اکیسویں صدی میں حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ آج کے داعیان حق کو دعوت الی اللہ کے راستے میں نہ وہ مسائل (problems) پیش آئیں گے جو صحابہ سے پہلے کے داعیوں کو پیش آئے تھے اور نہ اُن کو اُن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اصحاب رسول کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ اب ضرورت ہے کہ آج کے داعی، تاریخ کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور اس کو دعوت کے لیے استعمال کریں۔ موجودہ زمانے میں دعوت حق کے لیے تمام رکاوٹیں کلی طور پر ختم ہو چکی ہیں۔ اب اگر کسی داعی کے لیے رکاوٹ پیدا ہو تو وہ یقینی طور پر اس کی اپنی کسی غلط پالیسی کا نتیجہ ہوگی، وہ ہرگز حالات کے تحت پیش آنے والی رکاوٹ نہیں ہوسکتی۔
3- قرآن کی سورہ حم السجدہ میں مستقبل کے اعتبار سے، ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (53: 41) یعنی عن
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues