اجتماعی انقلاب کا دور
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۱۹
ایک عظیم دعوتی امکان پیدا ہوا ہے، مگر اس عظیم دعوتی امکان کو صرف وہی لوگ استعمال کر سکیں گے جو اپنے شعور کے اعتبار سے اُس کے فکری وارث بن سکیں۔
9۔ قرآن کی سورہ النساءِ میں داعیانِ اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: أُولَئِكَ الذين يعلم ما في قلوبهم، فأعرض عنهم وعظهم، وقل لهم في أنفسهم قولا بليغا (63: 4) یعنی اُن کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ پس تم اُن سے اعراض کرو اور اُن کو نصیحت کرو اور اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے: Speak to them in such terms as will address their minds. قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسے اسلوب میں کلام کرے جو مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ قدیم زمانہ روایتی اسلوب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں روایتی اسلوب بھی مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا بن سکتا تھا، مگر آج کا دور تعقل کا دور (age of reason) ہے۔ آج کے انسان کا مائنڈ صرف اُس وقت ایڈریس ہوتا ہے جب کہ اس کے سامنے کسی بات کو عقلی اسلوب میں بیان کیا جائے۔ یہ اللہ تعالی کی رحمت کا ایک پہلو ہے کہ جب وہ ایک چیز کا حکم دیتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اُس کے اسباب بھی فراہم کر دیتا ہے۔ اسلامی دعوت، اہل ایمان کی ابدی ذمے داری ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی اہل ایمان کو اُسی طرح اپنا دعوتی فریضہ انجام دینا ہے جس طرح دورِ قدیم کے اہل ایمان نے اس فریضے کو انجام دیا تھا۔ اللہ تعالی نے داعیانِ حق کی اس ضرورت کو سمجھا اور موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر وہ فکری تبدیلی پیدا کردی جس کو استعمال کر کے اسلامی دعوت کو عقلی اسلوب میں پیش کیا جا سکے۔ اسلام کے بعد کے زمانے میں ایک فکری عمل شروع ہوا۔ اکیسویں صدی میں یہ فکری عمل اپنے نقطۂ اختتام تک پہنچ چکا ہے۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ اسلام کی دعوت کو اُس اعلیٰ عقلی اسلوب پر پیش کیا جاسکے جو دورِ جدید کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ ضرورت ہے کہ آج کے داعیانِ حق اِس حقیقت کو جانیں اور اس کو جدید دور میں دعوتِ حق کے لیے استعمال کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues