Al-Risala · August 2011 · page 20

تاریخ کائنات کا دوسرا دور

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۲۰

10- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: إن الله ليؤيّد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحيح البخاري، كتاب الجهاد) یعنی اللہ تعالیٰ ضرور اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔

اس حدیث رسول میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق ایک پوری تاریخ سے ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے عرب میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ اس عمل کا نشانہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوں جس کے بعد اسلامی دعوت کو اس کی اعلیٰ ترین سطح پر انجام دینا ممکن ہو جائے۔ حقائق ربانی کے عالمی اظہار کے تمام ممکن ذرائع وجود میں آجائیں، تاکہ دور آخر کے اہل ایمان اتمام حجت کی سطح پر دعوت حق کا کام انجام دے سکیں۔ یہ منصوبہ کوئی معمولی منصوبہ نہ تھا۔ یہ تاریخ کے رخ (cause of history) کو انقلابی طور پر بدل دینے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہزاروں سال سے جاری روایتی دور ختم ہو جائے اور ایک نیا دور شروع ہو۔ یہ وہی دور ہے جس کو عام طور پر سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اس دور کو وجود میں لانا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ اتنا بڑا کام تھا جس کو تنہا اہل ایمان انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ضرورت تھی کہ اس میں پوری انسانیت شامل ہو، حتیٰ کہ ایسے محرکات پیدا ہوں کہ فاجر (secular) طبقہ بھی اس عمل میں یکساں طور پر شریک ہو جائے— مذکورہ حدیث رسول میں اسی عمومی انسانی عمل کا ذکر کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی آخری حد تک مکمل ہو چکی ہے۔ لمبے تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ تمام اسباب واقعہ بن چکے ہیں جو دعوتِ حق کے لیے تائید کی حیثیت رکھتے تھے۔ اب ضرورت ہے کہ اہل ایمان زمانے کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور اُس کو دعوت حق کے لیے استعمال کر کے دور جدید میں اتمام حجت کا وہ مطلوب کام انجام دیں جس کا خدائی منصوبے کے مطابق، قیامت سے پہلے ظہور میں آنا ضروری ہے۔

تاریخ کائنات کا دوسرا دور

تاریخ کائنات کے پہلے 6 دور گویا کہ اس کے مادی دور تھے۔ اس کے بعد تاریخ کائنات کا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page