Al-Risala · August 2011 · page 21

بنواسماعیل کا دور

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۲۱

دوسرا دور شروع ہوا۔ یہ دوسرا دور بھی 6 دوروں پر مشتمل ہے۔ اس دوسرے دور کو تاریخِ کائنات کا فکری دور کہا جاسکتا ہے۔ یہ دوسرے 6 دور حسب ذیل ہیں:

1- پیغمبروں کا دور 2- بنواسماعیل کا دور 3- اصحابِ رسول کا دور 4- مسلم تہذیب کا دور 5- مغربی تہذیب کا دور 6- اخوانِ رسول کا دور پیغمبروں کا دور پیغمبروں کا دور آدم سے شروع ہوا جو پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ آدمی کی پیدائش کی تاریخ معلوم نہیں۔ یہ دور آخر کار محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پر ختم ہوا، جو آخری پیغمبر کی حیثیت رکھتے تھے۔ قرآن میں صرف 25 پیغمبروں کا ذکر ہے۔ البتہ بائبل میں مزید پیغمبروں کا تذکرہ ہے جن کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔ تاہم تمام پیغمبروں میں صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات استثنائی طور پر محفوظ ہیں۔ اب قیامت تک کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ہی ہدایتِ الہی کا واحد مستند ماخذ (authentic source) کی حیثیت رکھتا ہے۔

بنواسماعیل کا دور

بنواسماعیل کا دور اُس وقت شروع ہوتا ہے جب کہ حضرت ابراہیم نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اس کا مقصد عرب میں ایک نئی نسل تیار کرنا تھا۔ یہ واقعہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے پیش آیا۔ اُس کا مقصد دراصل پیغمبرِ اسلام کے لیے ایک تیار شدہ نسل (prepared generation) فراہم کرنا تھا۔ یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب ہوا۔ بنواسماعیل کی اسی نسل میں پیغمبرِ اسلام پیدا ہوئے اور اسی نسل میں کام کر کے آپ کو ساتھیوں کی وہ ٹیم حاصل ہوئی جس نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

اصحابِ رسول کا دور

اصحابِ رسول سے مراد اصحابِ محمد ہیں۔ اصحابِ محمد، پیغمبروں کی تاریخ میں ایک مستثنیٰ گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی اجتماعی کوشش سے، تاریخ میں پہلی بار یہ کارنامہ انجام دیا کہ توحید کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page