Al-Risala · August 2011 · page 22

مسلم تہذیب کا دور

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲

مشن کو دعوت کے مرحلے سے آگے بڑھا کر، انقلاب کے مرحلے تک پہنچا دیا۔ اصحاب رسول کی کوششوں سے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ بعد کے تمام سماجی اور سیاسی اور سائنسی انقلابات اسی تاریخی عمل کا نتیجہ ہیں۔

مسلم تہذیب کا دور

مسلم تہذیب کے دور سے مراد وہ دور ہے جو رسول اور اصحاب رسول کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد شروع ہوا۔ یہ دور مکہ اور مدینہ میں شروع ہوا، پھر دمشق اور بغداد اور قرطبہ ہوتے ہوئے وہ مغربی یورپ تک پہنچ گیا۔ اس دور کو مسلم تہذیب کا دور کہا جا سکتا ہے۔ اس دور سے پہلے انسان، فطرت (nature) کو پرستش کے بجائے تدبر اور تسخیر کا موضوع بنایا گیا۔ جن ستاروں کو اس سے پہلے انسان دیوتا سمجھ کر پوجتا تھا، ان کے مطالعے اور مشاہدے کے لیے مسلم شہروں میں رصد گاہیں قائم ہوئیں، وغیرہ۔ مسلم تہذیب کے رول کا اعتراف مورخین نے واضح طور پر کیا ہے۔ مثال کے طور پر بریفالٹ (Robert Briffault) نے لکھا ہے کہ ؀ یہ بہت زیادہ قرین قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہ آتی: It is highly probable that but for the Arabs, modern industrial civilization would never have arisen at all. (The Making of Humanity, p. 202)

مغربی تہذیب کا دور

مغربی تہذیب (western civilization) کو عام طور پر قدیم یونانی تہذیب کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے، مگر یہ انتساب درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید مغربی تہذیب دراصل قدیم مسلم تہذیب کی نشاۃ ثانیہ ہے۔ مغربی تہذیب نے اُس سائنسی علوم کو تکمیل تک پہنچایا، جس کا آغاز مسلم تہذیب کے زمانے میں ہوا تھا۔ مغربی تہذیب نے فطرت (nature) میں چھپے ہوئے قوانین (laws of nature) کی دریافت کر کے یہ کیا کہ اسلام کی صداقت اور اسلام کی دعوت کے تمام امکانات اعلیٰ ترین سطح پر کھول دئے۔ غالباً یہی تاریخی واقعہ ہے جس کی پیشین گوئی حدیث رسول میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page