Al-Risala · August 2011 · page 23

اخوانِ رسول کا دور

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۲۳

ان الفاظ میں کی گئی تھی: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر ۔

اس حدیث رسول میں جس تائید دین کا ذکر ہے، اُس سے مراد تہذیب (civilization) کے ذریعے وجود میں آنے والی تائید ہے، یعنی فکر و عمل کی سطح پر دین حق کے لیے تمام مواقع کا کھل جانا۔ تائید دین کے اس واقعے کا ابتدائی نصف حصہ مسلم تہذیب کے زمانے پیش آیا، اور تائید دین کے اس واقعے کا بقیہ نصف حصہ مغربی تہذیب کے ذریعے انجام پایا۔ مذکورہ حدیث رسول میں، فاجر انسان سے مراد اصل سیکولر انسان ہے۔

اخوانِ رسول کا دور

اخوانِ رسول سے مراد امت محمدی کا وہ دوسرا گروہ ہے جو تاریخ انسانی کے آخری دور میں قیامت سے پہلے غالباً اکیسویں صدی میں ظاہر ہوگا۔ وہ حالات کے اعتبار سے اکیسویں صدی عیسوی میں وہی دعوتی جہاد کرے گا جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول نے اپنے حالات کے اعتبار سے انجام دیا تھا۔ اصحابِ رسول اپنے زمانے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے وارث بنے تھے۔ اخوانِ رسول اپنے زمانے سے پہلے کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کے وارث ہوں گے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں میں سے کسی کا کام پر اسرار کام نہیں ہوگا، بلکہ دونوں ہی کا یہ معاملہ ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کے معلوم مواقع کو دریافت کریں گے اور اُن کو استعمال کر کے انسانیت کے معاملے میں خدا کے منصوبے کو پورا کریں گے۔

اخوانِ رسول

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق، دورِ آخر میں اہلِ ایمان کے درمیان ایک دعوتی گروہ ظاہر ہوگا۔ حدیث میں اس گروہ کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وددتُ أنا قد رأينا إخواننا۔ قالوا: أو لسنا إخوانك يا رسول الله ، قال : بل أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (صحیح مسلم، كتاب الطهارة) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھوں۔ صحابہ نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page