Al-Risala · August 2011 · page 24

اخوانِ رسول کی صفات

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴

اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان (بھائی) نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ ہوں گے جو ابھی ظاہر نہیں ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دینِ توحید کی جو تاریخ شروع ہوئی، اُس میں دو گروہ ایسے ہیں جن کے لیے مقدر تھا کہ وہ دینِ توحید کے دعوتی اظہار میں نمایاں رول ادا کریں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول نے ساتویں صدی کے نصف اول میں اپنا خصوصی رول ادا کیا۔ موجودہ زمانے میں دعوت واظہارِ دین کا یہی رول وہ دوسرا گروہ انجام دے گا جس کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔

دونوں گروہوں میں سے کسی گروہ کا رول پر اسرار کرامت کے طور پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ معلوم اسباب کے تحت ہوگا۔ دونوں زمانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے جن کو استعمال کرتے ہوئے دونوں گروہ اپنا مطلوب رول انجام دیں گے۔ دونوں گروہ دراصل دو الگ الگ تاریخی عمل کے نقطۂ انتہا (culmination) ہوں گے۔

اخوانِ رسول کی صفات

اخوانِ رسول کی دو خاص صفتیں ہوں گی— ایک صفت کا تعلق معرفتِ دین سے ہے، اور دوسری صفت کا تعلق دعوتِ دین سے۔ یہ دونوں صفات یکساں طور پر ضروری ہیں۔ ان میں سے کسی ایک صفت کا فقدان بھی کسی گروہ کو اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کے لیے نااہل بنا دیتا ہے۔ پہلی صفت کو سمجھنے کے لیے اس حدیثِ رسول کا مطالعہ کیجئے: بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ، فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، کتاب الإيمان) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ اسی طرح دوبارہ اسلام اجنبی ہو جائے۔ پس مبارک باد ہو اجنبیوں کے لیے۔ اس حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے کہ عام قانونِ فطرت کے مطابق، مسلمانوں کی اگلی نسلوں کے اندر زوال (de-generation) پیدا ہوگا۔ وہ بدستور اسلام کا نام لیں گے، لیکن وہ حقیقی اسلام سے نا آشنا ہو چکے ہوں گے۔ وہ لوگ قابلِ مبارک باد ہیں جو بعد کے زمانے میں اصلِ اسلام کو دریافت

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page