Al-Risala · August 2011 · page 30

متلاشی حق نسل

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۳۰

(truth seeker) لوگ تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو حُنفاء کہا گیا ہے، یعنی متلاشی۔ انھیں حفاء میں سے ایک زید بن عمر بن نُفیل تھے۔ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زید بن عمر و بن نُفیل کو دیکھا ہے۔ وہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اللهم إني لو أعلم أحب الوجوه إليك، عبدتك به، ولكني لا أعلم (السيرة النبوية لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 154) یعنی اے اللہ، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے تو میں اُسی طرح تیری عبادت کرتا، لیکن میں اس کو نہیں جانتا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر بنواسماعیل کے تقریباً تمام افراد کا یہی حال تھا۔ اپنی خصوصی صحرائی تربیت کے نتیجے میں یہ لوگ متلاشی حق (truth seeker) تھے، نہ کہ منکر حق۔ یہی وجہ ہے کہ دھیرے دھیرے اُن کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ابتدا میں اُن کی مخالفت بے خبری کی بنا پر تھی، نہ کہ حقیقۃً سرکشی کی بنا پر۔ موجودہ زمانے کی جدید نسل کا کیس بھی عام طور پر یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلابات اور دوسرے فکری انقلاب کے نتیجے میں لوگوں کا جو ذہن بنا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، منکر حق کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ متلاشی حق (truth seeker) کا کیس ہے۔ اس معاملے کو ایک حالیہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔

ایک انگریز جوڑ امغربی تہذیب سے غیر مطمئن تھا۔ آخر کار دونوں لندن چھوڑ کر دہلی آ گئے۔ دہلی میں آج کل وہ بیمار حیوانات کا ایک اسپتال چلا رہے ہیں۔ وہ حیوانات کی خدمت میں اپنے لیے اطمینان تلاش کر رہے ہیں۔ ہماری دعوتی ٹیم کے ایک صاحب اُن سے ملے اور اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ انھوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا اور کہا کہ میں اس کو ضرور پڑھوں گا۔ انھوں نے کہا کہ۔ میری ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ میں سچائی کے دوسرے تصور کو جانوں:

I always wanted to know another version of the truth. یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ نئے افکار اور نئے تجربات نے اُن کو شعوری یا غیر شعوری طور پر سچائی کا متلاشی بنا دیا ہے۔ یہ صورت حال اکیسویں صدی کے اخوان رسول کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page