ہندوستان میں خصوصی مواقع
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۳۷
بہت کم حصہ طے ہوا تھا کہ اس کی حد آ گئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کلمات اللہ یا آلاء اللہ ابھی لامتناہی حد تک باقی ہیں ، پھر کیا ایسا ہوگا کہ انسانی تاریخ یوں ہی نا تمام طور پر ختم ہو جائے اور کلمات اللہ اسی طرح مخفی حالت میں باقی رہیں ۔ ایسا ہونا نا ممکن ہے۔ ضروری ہے کہ تخلیق کا منصوبہ پورا ہو، اتمامِ نور (8 کا عمل اپنی آخری حد تک پہنچے، وہ خدائی پیشین گوئی واقعہ بنے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وأشرقت الأرض بنور ربها (69 :39)۔ قیامت کے بعد بننے والی دنیا دراصل اسی ربانی تہذیب یا ان فولڈنگ کے عمل (process of unfolding) کا تسلسل (continuation) ہے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں صالح انسان اور غیر صالح انسان دونوں ملے ہوئے ہیں۔ قیامت کے بعد دونوں کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے گا۔ غیر صالح لوگوں کو ابدی طور پر محرومی کی دنیا میں ڈال دیا جائے گا اور صالح انسانوں کو الگ کر کے ایک کامل اور معیاری دنیا میں بسایا جائے گا، اسی کا نام جنت ہے۔ ربانی تہذیب جنت دوسرے الفاظ میں ، ربانی تہذیب (divine civilization) کی دنیا ہے۔
ربانی تہذیب کے تحت جو عمل انجام پائے گا ، اُس کو ایک لفظ میں ، آلاء اللہ کی اَن فولڈنگ (unfolding of divine wonders) کہا جا سکتا ہے۔
یہ عمل سادہ طور پر ایک عمل نہیں ہوگا، بلکہ وہ اعلیٰ ترین مسرت (super joy) کا تجربہ ہوگا۔ یہاں انسان ہر لمحہ ایک نئی پر اہتزاز دریافت (thrilling discovery) کرے گا۔ لازوال مسرت کی اس دنیا کی کوئی انتہا نہ ہوگی اور نہ وہ کبھی ختم ہوگی۔ اسی جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: خالدين فيها لا يبغون عنها حولا (18: 108)۔
قرآن اور حدیث میں اہل جنت کے آرام و راحت کے لیے بہت سی چیزیں موجود ہوں گی۔ جنت میں آرام و راحت کی حیثیت دراصل خدائی ضیافت (divine hospitality) کی ہوگی ، یعنی اہل جنت کی اصل سرگرمیاں اس لیے ہوں گی کہ وہ ربانی تہذیب کو بروئے کار لائیں۔ اسی کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues