روزہ اور تزکیہ نفس
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۴۳
تزکیہ نفس میں تزکیہ سے مراد تطہیر (purification) ہے، یعنی نفسیاتی تطہیر، اور روح سے مراد ذہن (mind) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہن ہی کا دوسرا نام انسانی وجود ہے۔ انسانی وجود کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ جو بولے جاتے ہیں، مثلاً روح، نفس اور فطرت وغیرہ، وہ اس کے ادبی استعمالات (literary usage) ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی شخصیت (human personality)، نفسیاتی اصطلاح میں، صرف ذہن یا مائنڈ کا نام ہے۔ دوسری تمام چیزیں جو انسان کی زندگی میں نظر آتی ہیں، وہ سب اسی اصل وجود کے مظاہر ہیں، ان کا مستقل بالذات کوئی وجود نہیں۔
تزکیہ نفس کا مطلب شخصیت کی تعمیر ہے۔ روزہ انسان کے اندر اسی اعلیٰ شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اس اعلیٰ شخصیت کا تحقق صرف ایک انسان کے اندر ہوتا ہے۔ انسان کے سوا کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو اس نادر ظاہر ہ کا ثبوت دے سکے۔ رمضان کا روزہ اپنے آپ میں اس اعلیٰ انسانی واقعہ کو ظہور میں نہیں لاسکتا۔ رمضان کا روزہ دراصل ایک ابتدائی کورس ہے، وہ ایک پر اس کا آغاز ہے، وہ تزکیہ کے ایک ربانی راستے پر انسان کو چلانے والا ہے۔ روزہ نقطہ آغاز ہے، وہ نقطہ اختتام نہیں۔ روزہ پہلا قدم ہے، وہ آخری قدم نہیں۔ روزہ ایک سفر کی طرف روانگی ہے، وہ سفر کی آخری منزل نہیں۔ روزہ اپنے آپ کسی کو تزکیہ نفس کا یہ فائدہ نہیں دے سکتا۔ روزہ کا یہ فائدہ صرف اُس انسان کو ملے گا جس نے پہلے سے اپنے شعور کو بیدار کر رکھا ہو اور جو مسلسل شعوری عمل کے ذریعے روزہ سے یہ فائدہ حاصل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتا رہے۔ روزے کی اس غیر معمولی اہمیت کو ایک حدیث قدسی میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: کل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مأة ضعف، قال الله تعالى إلا الصوم فإنه لي وأنا أجزى به۔ يدع شهوته وطعامه من أجلي۔ للصائم فرحتان فرحة عند فطره، وفرحة عند لقاء ربه (صحیح مسلم، كتاب الصيام، باب فضل الصوم) یعنی انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مگر روزہ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میرے لیے اپنی خواہشات (desires) کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں— ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues