Al-Risala · August 2011 · page 44

روزہ اور تزکیہ نفس

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۴۴

روزہ کے ذریعے تزکیہ نفس کس طرح ہوتا ہے، یہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی پراسس ہے جو روزہ کے ذریعے انسان کے اندر جاری ہوتا ہے اور نہ صرف رمضان کے مہینے میں بلکہ پورے سال جاری رہتا ہے۔ روزہ رکھ کر جب انسان کو بھوک اور پیاس تڑپاتی ہے، اُس وقت اس کو اپنی حیثیت واقعی کا تجربہ ہوتا ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ کی مدد کے بغیر میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تجربہ انسان کو آخری حد تک کٹ ٹو سائز (cut to size) کر دیتا ہے۔ ایک حقیقی روزہ انسان کے اندر اُن چیزوں کو بالکل ختم کر دیتا ہے جو اُس کو اللہ سے دور کرنے والی ہیں، مثلاً فخر، بڑائی، فراموشی، غفلت، وغیرہ۔ ایک حقیقی روزہ انسان کی پوری شخصیت کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ حقیقی روزہ رکھ کر آدمی اِسی طرح تڑپنے لگتا ہے جس طرح پانی کے بغیر مچھلی تڑپتی ہے۔ روزہ انسان کے لیے ایک طرف اپنے بے کچھ ہونے کا تعارف ہے اور دوسری طرف، اللہ کے سب کچھ ہونے کا تعارف۔

یہی تجربہ تزکیہ کی روح ہے۔ یہ تجربہ آدمی کے لیے کلی تطہیر (total purification) کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ انسان عام زندگی میں مختلف قسم کی فرضی بڑائی (false glory) کے احساس میں جیتا ہے۔ فرضی بڑائی کا یہی احساس آدمی کے لیے خدا سے دوری کا سبب بن جاتا ہے۔ روزے کا تجربہ آدمی کو آخری حد تک کٹ ٹو سائز کر دیتا ہے۔ جب آدمی عجز کے اس تجربے تک پہنچتا ہے تو وہ دریافت کرتا ہے کہ میری طرف صرف نہیں ہے اور خدا کی طرف صرف ہے۔ اسی دو طرفہ دریافت کا نام تزکیہ نفس ہے۔ اس دریافت کے بغیر کسی انسان کو تزکیہ کا درجہ حاصل ہونے والا نہیں۔

تزکیہ نفس کا ایک پہلو وہ ہے جس کو تطہیر کہا جاتا ہے، یعنی نفس کو تمام غیر مطلوب کیفیات سے پاک کرنا۔ مگر یہ پاک کرنا کوئی محدود عمل نہیں ہے۔ نفس کی تطہیر آدمی کے لیے معاً ایک اور دروازہ کو کھول دیتی ہے۔ یہ روحانی ارتقا کا دروازہ ہے۔ انسان کی شخصیت اپنے آپ میں ٹھیک اُسی طرح ایک نمو پذیر چیز ہے جس طرح درخت کا ایک بیج نمو پذیر ہوتا ہے۔ بیج سے اگر ہر قسم کے موانع (obstacles) کو ہٹا دیا جائے تو اپنے آپ وہ اگنا شروع ہو جائے گا اور بتدریج ایک مکمل درخت بن جائے گا، ایک ایسا درخت جس میں شاخیں ہوں، ہری پتیاں ہوں، خوشبودار پھول ہوں، صحت بخش پھل ہوں، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page