روزہ اور تزکیہ نفس
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۴۵
اسی طرح قرآن کے مطابق، انسان کی شخصیت بھی توانائی سے بھرا ہوا ایک بیج ہے۔ وہ اپنے آپ میں بڑھنا چاہتا ہے اور فضاؤں میں پھیل جانا چاہتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس کے مادی موانع کو ہٹایا جائے۔ روزہ یا روزے کا پر اس اگر حقیقی طور پر موجود ہو تو وہ اسی طرح انسانی شخصیت کے بیج سے تمام نفسیاتی موانع کو ہٹا دیتا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ انسانی شخصیت خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کرنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے اس کا وہ حال ہو جاتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أصلها ثابت وفرعها في السماء (14:24)۔
ایک شخص جو روزے سے پہلے خدا کو دریافت (discover) کر چکا ہو، جو ایک ذہن (prepared mind) کے ساتھ روزے کے مہینے میں داخل ہو۔ ایک ایسا انسان جب حقیقی معنوں میں روزہ رکھے گا تو اس کو پورے مہینے کی راتوں اور پورے مہینے کے دنوں میں انوکھے تجربات ہوں گے۔ ایسے آدمی کا روزہ اس کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے بچائے گا، ایسے آدمی کا روزہ اس کو ہر طرف سے یکسو کر کے خدا کی یاد میں لگا دے گا۔ اس کا یہ حال ہوگا کہ نماز پڑھتے وقت اس کو مزید خشوع کا تجربہ ہوگا، قرآن کی تلاوت کرتے وقت اُس پر نئے نئے معانی کھلیں گے، فطرت کے مشاہدے میں اس پر فطرت کے نئے نئے تخلیقی پہلو ظاہر ہوں گے، ہر تجربہ اس کے لیے پہلے سے زیادہ گہرا تجربہ بن جائے گا، ہر چیز سے اس کا ذہن زیادہ اعلیٰ قسم کی فکری اور روحانی غذائیں حاصل کرنے لگے گا، وہ اپنی زندگی کی معنویت کو زیادہ بہتر طور پر دریافت کرے گا، اس کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کو مزید اضافے کے ساتھ موت کی یاد دلائے گی، اس کا پورا مہینہ اس طرح گزرے گا کہ گریہ وزاری کے درمیان ذکر و دعا کے نئے الفاظ اس کی زبان پر آئیں گے، اس کا سونا ایک نیا سونا بن جائے گا، اس کا جاگنا ایک نیا جاگنا بن جائے گا، صبح کی روشنی اور شام کی تاریکی اس کو بالکل نئے تجربات سے ہمکنار کرے گی۔ اس طرح کیفیات سے بھرا ہوا ایک پورا مہینہ گزارنے کے بعد جب وہ یکم شوال کی صبح کو نماز ادا کرنے کے لیے عیدگاہ کی طرف روانہ ہوگا، تو اس کو وہ حدیث یاد آئے گی جس کو محدثین نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے: ”...... فإذا كان يوم عیدهم، يعني يوم فطرهم، باهى بهم ملائکته، فقال: ملائکتی، ما جزاءُ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues