محبت الٰہی کا سرچشمہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴
محبت الٰہی کا سرچشمہ
قرآن کی سورہ النحل میں ارشاد ہوا ہے: واشكروا نعمة الله إن كنتم إياه تعبدون (114: 16) یعنی تم اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو، اگر تم اللہ ہی کی عبادت کرنے والے ہو۔ اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرنا کوئی سادہ بات نہیں، اس میں اللہ سے محبت اپنے آپ شامل ہے۔ نعمتوں کا احساس، آدمی کے اندر اس کے دینے والے کے لیے محبت پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کی زبان سے شکر، یعنی اعتراف (acknowledgement) کا کلمہ نکلتا ہے۔ گویا کہ انعام سے، منعم کے لیے محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور محبت، اعتراف کے کلمات میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی کو شکر کہا گیا ہے۔ اسی حقیقت کو ایک حدیث رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: أحبو ا الله لما يغذوا كم به من نعمه (المستدرك للحاكم، رقم الحديث: 4716) یعنی تم اللہ سے محبت کرو اس کی اُن نعمتوں کی بنا پر جن نعمتوں کا رزق اللہ نے تم کو عطا فرمایا ہے۔ اس روایت میں 'غذا' کا لفظ علامتی معنوں میں ہے۔ یہاں غذا سے مراد ہر قسم کے عطیات ہیں جو اللہ کی طرف سے انسان کو ملے ہیں۔ اس میں مادی عطیات (material blessings) بھی شامل ہیں، اور معنوی عطیات (spiritual blessings) بھی۔
قرآن کی مذکورہ آیت اور مذکورہ حدیث رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ احساس محبت کا سر چشمہ احساسِ نعمت ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز ملی ہے، وہ سب کی سب، اللہ کی طرف سے ایک طرفہ انعام کے طور پر ملی ہے۔ انسان اپنے بارے میں اور خارجی دنیا کے بارے میں جتنا زیادہ سوچے گا، اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی نعمتوں کو دریافت کرے گا۔ انسان جب شعوری طور پر ان خدائی نعمتوں کو دریافت کرتا ہے تو اُس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے کے لیے محبت کے گہرے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں، پھر یہی محبت ذکر اور شکر اور عبادت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues