مصلح کی ایذارسانی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۵
مصلح کی ایذارسانی
قرآن کی سورہ الاحزاب میں یہ آیت آئی ہے: یا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا، وكان عند الله وجيهاً (33: 69) یعنی اے ایمان والو، تم اُن لوگوں کے مانند نہ بنو جنھوں نے موسیٰ کو ستایا، تو اللہ نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تہمتوں سے بری کر دیا اور موسیٰ اللہ کے نزدیک بہت باوقار تھا۔
قرآن کی اس آیت میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی امت جب اپنے دورِ زوال میں پہنچتی ہے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے۔ زوال یافتہ نفسیات (degenerated psychology) کی بنا پر ایسے لوگ اپنے خلاف نصیحت اور تنقید کو پسند نہیں کرتے۔ چناں چہ ایسی حالت میں جو اللہ کا بندہ اُن کے درمیان کھڑا ہو کر ان کی کمزوریوں کی نشان دہی کرتا ہے، وہ اس کے دشمن بن جاتے ہیں اور جھوٹے الزام لگا کر اس کو بدنام کرتے ہیں، تا کہ یہ ظاہر ہو کہ خرابی لوگوں کے اندر نہیں ہے، بلکہ خود مصلح کے اندر ہے۔ اسی نفسیات کے تحت، یہود نے اپنے دورِ زوال میں حضرت موسیٰ کے خلاف بہت سے قصے گھڑے تھے جو اب بھی کتابوں میں موجود ہیں۔
قرآن کی اس آیت کا خطاب دراصل امتِ محمدی کی طرف ہے۔ اس آیت میں امتِ محمدی کو یہ انتباہ دیا گیا ہے کہ تم پر بھی زوال آئے گا۔ اُس وقت تم ایسا نہ کرنا کہ تم اپنے مصلح کو قبول نہ کرو اور اپنے عدمِ قبولیت کے جواز (justification) کے لیے ایسا کرو کہ اپنے مصلح کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر اس کو بدنام کرو اور اس طرح یہ ظاہر کرو کہ غلطی تمھاری طرف نہیں ہے، بلکہ مصلح کی طرف ہے۔ یہ سخت گناہ کا فعل ہے۔ جو لوگ ایسا کریں، اُن کو اُسی طرح پکڑا جائے گا جس طرح حضرت موسیٰ کے معاصر یہود کو پکڑا گیا۔ قرآن کی اس آیت میں مصلح کے لیے ایک عظیم خوش خبری ہے، وہ یہ کہ مخالفین کی طرف سے الزام تراشی کی مہم یقینی طور پر ناکام ہوگی، اور آخر کار مصلح کا برسرِ حق ہونا ایک ثابت شدہ واقعہ بن جائے گا، موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت کی دنیا میں بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues