حرصِ جنت، خوفِ جہنم
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۶
حرصِ جنت، خوفِ جہنم
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن الترمذی کے الفاظ یہ ہیں: عــــــن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من سأل الله الجنة ثلاث مرات، قال الجنة: اللهم أدخله الجنة. ومن استجار من النار ثلاث مرات، قالت النار : اللهم أجره من النار (الترمذي، رقم الحديث: 2572؛ أخرجه أيضاً النسائي وابن ماجه وابن حبّان في صحيحه والحاكم)۔ یعنی جس نے اللہ سے جنت مانگی تین بار، جنت کہے گی کہ اے اللہ، تو اس کو جنت میں داخل کردے۔ اور جس شخص نے جہنم سے پناہ مانگی تین بار، جہنم کہے گی کہ اے اللہ، تو اس کو جہنم سے پناہ دے دے۔
اس حدیثِ رسول میں تین بار سے مراد تین گنتی نہیں ہے، بلکہ تین موقع (occasion) ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو شخص گنتی کے اعتبار سے، ان الفاظ کو تین بار بول دے، وہ اس انعام کا مستحق بن جائے گا۔ اس سے مراد دراصل وہ انسان ہے جس نے جنت اور جہنم کو دریافت کیا، جنت اور جہنم کی سوچ جس کے تفکیری عمل (thinking process) میں شامل ہوگئی۔ جو جنت کا سب سے زیادہ حریص بن گیا اور جہنم سے سب سے زیادہ ڈرنے لگا۔ بڑھے ہوئے شعور کی بنا پر جس کا یہ حال ہو گیا کہ وہ سوچنے لگا کہ اگر جنت نہ ملی تو میرا کیا حال ہوگا، اور اگر مجھ کو جہنم میں ڈال دیا گیا تو میں کیسے اس کا تحمل کروں گا۔ پھر اُس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ فرشتوں کے ریکارڈ میں کم از کم تین بار یہ واقعہ درج ہوا کہ وہ جنت اور جہنم کی یاد میں تڑپ رہا ہے اور اپنی تنہائیوں میں خدا کو پکارتے ہوئے وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ــــــ خدایا، تو مجھ کو اپنے اُن بندوں میں شامل فرما جن کو تو جنت کا انعام عطا فرمائے گا، خدایا، تو مجھ کو اپنے اُن بندوں میں شامل فرما جن کو تو جہنم کی آگ سے نجات دے گا۔ جس انسان کے اوپر کم از کم تین بار یہ طوفانی تجربہ گزرا، وہ مذکورہ حدیثِ رسول کا مصداق قرار پائے گا۔ اس حدیثِ رسول میں دراصل ایک حقیقتِ واقعہ کو بیان کیا گیا ہے، نہ کہ کسی قسم کی لفظی گنتی کو۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues