جنت : عطیہ خداوندی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۷
جنت : عطیہ خداوندی
تمام حیوانات اپنی ضرورت کے مقام پر چل کر یا رینگ کر پہنچتے ہیں۔ مگر اس میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ مچھلی کا استثنا ہے۔ مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، مگر مچھلی کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ رینگ کر یا چل کر پانی میں پہنچ جائے ۔ وہ دریا کے کنارے تڑپتی رہے گی، لیکن خود سے وہ دریا کے اندر نہ جاسکے گی، الا یہ کہ کوئی شخص اس کو اٹھا کر پانی میں ڈال دے۔
یہ واقعہ تمثیل کی زبان میں ایک حقیقت کو بتاتا ہے، اور وہ جنت کا معاملہ ہے۔ کوئی شخص کتنا ہی زیادہ صالح اور متقی ہو، مگر اس کا ذاتی عمل اس کو جنت میں نہیں پہنچا سکتا۔ کسی شخص کا جنت میں پہنچنا صرف اُسی وقت ممکن ہے جب کہ اللہ اپنی رحمت کے ذریعے اس کو جنت میں داخل کر دے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: إنّه لا يدخل أحداً الجنة عمله۔ قالوا: ولا أنت يا رسول الله، قال: ولا أنا، إلا أن يتغمّدني الله بمغفرة ورحمة (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب القصد) یعنی بے شک کسی آدمی کا عمل اُس کو جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ نہ کہا، اے خدا کے رسول، کیا آپ بھی۔ آپ نے فرمایا ہاں، الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانک لے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسانی عمل جنت کی قیمت نہیں۔ انسانی عمل صرف اس لیے ہے کہ وہ اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ اسی لیے انسانی عمل میں سب سے بڑی چیز معرفتِ الہی ہے۔ معرفتِ الہی میں جو شخص پورا اترے گا، اللہ اس کی طرف متوجہ ہوگا اور اپنی عنایتِ خاص کے تحت اس کے لیے جنت میں داخلے کا فیصلہ فرمائے گا۔ جنت کسی کو اللہ کی عنایت سے ملے گی، نہ کہ اپنے عمل کی قیمت کے طور پر۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا چند سالہ عمل کبھی ابدی جنت کے برابر نہیں ہوسکتا۔ کوئی شخص جو اپنے عمل کو جنت کی قیمت سمجھے، اُس کا معاملہ آخرت میں اُس شخص جیسا ہوگا جس کے پاس صرف ایک پیسہ ہو اور وہ ہوائی جہاز خریدنے کے لیے پہنچ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues