نجاتِ آخرت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۸
نجاتِ آخرت
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی فاطمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: یا فاطمہ، أنقذي نفسك من النار، فإني لا أملك لكم من الله شيئاً (صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب في قوله تعالى وأنذر عشيرتك الأقربين) یعنی اے فاطمہ، اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ کیوں کہ میں اللہ کے مقابلے میں تمھارے لیے کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اسی طرح حضرت عائشہ کی ایک روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا کہ کسی شخص کا کوئی عمل اُس کو جنت میں نہیں لے جائے گا، حتی کہ مجھے بھی نہیں۔ میرے لیے بھی صرف اللہ کی مغفرت اور رحمت سے جنت میں پہنچنا ممکن ہوگا (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة على العمل)
آخرت میں جنت کا ملنا کسی انسان کے لیے آخری کامیابی کا معاملہ ہوگا۔ یہ عظیم واقعہ صرف خدا کے فیصلے کے تحت انجام پائے گا۔ جنت میں داخلہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ خدا کی قدرت کاملہ کا اظہار ہے۔ جنت صرف معترفین کے لیے ہے، یعنی اُن لوگوں کے لیے جو کامل اعتراف کے ساتھ جنت میں داخل ہوں۔ یہ کامل اعتراف حقیقی اعتراف ہوگا، نہ کہ صرف لفظی اعتراف۔ اعتراف کامل کا یہ احساس کسی انسان کے اندر صرف اُس وقت پیدا ہوگا جب کہ وہ فی الواقع یہ محسوس کرے کہ جنت مجھے صرف فضلِ خداوندی کی بنا پر مل سکتی ہے۔ جو یہ کہہ سکے کہ خدایا، میں کامل طور پر غیر مستحق تھا۔ یہ صرف تیری غیر معمولی عنایت ہے کہ تو نے میرے عدم استحقاق کے باوجود محض اپنے فضل سے مجھے جنت دے دی۔
حقیقت یہ ہے کہ جنت اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی عمل یا تمام انسانوں کا مجموعی عمل بھی اس کی قیمت نہیں بن سکتا۔ جو آدمی جنت کو اس طرح دریافت کرلے کہ جنت کی ابدی نعمتوں کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو کامل طور پر غیر مستحق سمجھنے لگے، وہی جنت میں داخل ہوگا۔ انسان کا کوئی عمل جنت میں داخلے کا ٹکٹ نہیں بن سکتا۔ جنت میں داخلے کا ٹکٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے غیر مستحق ہونے کو دریافت کرلے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues