عافیت کی زندگی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۹
عافیت کی زندگی
عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن فُتح له منكم باب الدعاء، فتحت له أبواب الرحمة۔ وما سئل الله شيئاً أحب إليه من أن يسأل العافية (رواه الترمذي، بحواله مشكاة المصابيح، رقم الحديث: 2339) یعنی تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھولا جائے ، اُس کے لیے رحمت کے تمام دروازے کھول دئے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب دعا یہ ہے کہ بندہ اُس سے عافیت مانگے۔ دعا در اصل اللہ کے مقابلے میں اپنے عجز کا اظہار ہے۔ عجز کا اظہار ہمیشہ اللہ کی عظمت کے کامل اعتراف سے پیدا ہوتا ہے۔ جو آدمی اللہ کی عظمت کو دریافت کرے، اُس کے نتیجے میں اس کے اندر اپنے بارے میں کامل عجز (total helplessness) کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عجز کا احساس جب لفظوں میں ڈھل جائے تو اسی کا نام دعا ہے۔
عافیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کو صحت اور سکون کی زندگی حاصل ہوجائے۔ دنیا کی زندگی میں صحت اور سکون بلاشبہ سب سے بڑی نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی بھی کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو اس قسم کی عافیت حاصل ہو۔ عافیت کا حصول انسان کے اپنے بس میں نہیں۔ جس طرح زندگی اللہ کی طرف سے ملتی ہے، اسی طرح عافیت بھی اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ عافیت کی اسی اہمیت کا تقاضا ہے کہ آدمی ہر وقت خدا سے عافیت کی دعا کرتا رہے۔
عافیت کا تعلق دولت (wealth) یا مادی سامانِ راحت سے نہیں ہے، عافیت کا تعلق تمام تر ذہنی سکون سے ہے۔ یہ ذہنی سکون کسی انسان کو اللہ کی خصوصی توفیق سے ملتا ہے۔ کوئی انسان ذکر اور دعا اور عبادت اور معرفت کا ثبوت اُسی وقت دے سکتا ہے جب کہ اس کو عافیت کی زندگی حاصل ہو جائے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اللہ سے مانگنے کی سبب سے بڑی چیز عافیت ہے، نہ کہ دولت یا مادی سامانِ راحت۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues