Al-Risala · September 2011 · page 10

محبت الہی، اعتراف الہی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۰

محبت الہی، اعتراف الہی

اللہ سے محبت ایمان کا جز ہے۔ اللہ سے محبت تمام الہامی مذاہب کی تعلیمات کا حصہ رہا ہے۔ مثلاً موجودہ بائبل، عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید، دونوں میں آیا ہے کہ۔ خداوند اپنے خدا سے، اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ:

You shall love the Lord your God with all your heart, with all your soul and with all your mind. (Matthew 22: 37, Deuteronomy 6:5)

محبت الہی کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں۔ محبت الہی دراصل اعتراف الہی کا اعلیٰ درجہ ہے۔ ایک شخص جب اللہ کی دریافت کرتا ہے، جب وہ اللہ کی نعمتوں سے شعوری طور پر واقف ہوتا ہے، جب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا وجود اور اس کی پوری زندگی اللہ کے انعامات (blessings) سے بھری ہوئی ہے، اُس وقت فطری طور پر اُس کے اندر اللہ کے لیے شدید محبت (strong affection) کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اِسی حب شدید کا نام محبت الہی ہے۔

محبت الہی، رب السماوات والارض سے محبت کا نام ہے۔ ایسی محبت کسی آدمی کے لیے صرف جذباتی تعلق کا نام نہیں ہوتا، اس کے ذریعے آدمی کی شخصیت میں ایک انقلاب پیدا ہو جاتا ہے۔ محبت الہی آدمی کے اندر تمام اعلیٰ صفات پیدا کرتی ہے۔ مثلاً مثبت سوچ (positive thinking)، انسانوں کے لیے شفقت، توکل اور اعتماد اور حوصلہ، وغیرہ۔

محبت اللہ کی نسبت سے، معرفت کا اعلیٰ درجہ ہے۔ انسان کی نسبت سے معرفت آدمی کے اندر انسان دوست کردار (human-friendly behaviour) پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ دعوت الی اللہ بھی محبت الہی کا ایک اظہار ہے۔ جب کسی انسان کو اللہ سے محبت کا تعلق ہوتا ہے تو فطری طور پر وہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچائے، یہاں تک کہ اللہ کا کوئی بندہ اپنے رب کی ابدی رحمتوں سے محروم نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page