Al-Risala · September 2011 · page 11

محبتِ الہی عشق الہی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۱

محبتِ الہی عشق الہی

قرآن اور حدیث میں اللہ کے لیے محبت کا ذکر ہے، لیکن قرآن اور حدیث میں اللہ کے لیے عشق کا ذکر نہیں۔ عشق الہی کا تصور بعد کو عباسی دور میں، صوفیا کے یہاں پیدا ہوا۔ یہ دراصل غلو (extremism) کا ظاہرہ (phenomenon) ہے۔ صوفیا نے بربناء غلو یہ نظریہ قائم کیا کہ خدا کے لیے عبادت سرتا سر بے غرض ہونا چاہیے، جنت کی حرص یا جہنم کے خوف سے نہیں۔ اسی سے صوفیانہ نظریے کی بنا پر عشق کا تصور پیدا ہوا۔ عشق دراصل محبت برائے محبت (love for the sake of love) کا نام ہے۔ عشق کے اس تصور کا ماخذ خود صوفیا کا اپنا تصور عبادت تھا، نہ کہ اسلام کا تصور عبادت۔ اللہ سے محبت اسلام میں اعلیٰ ترین مطلوب چیز ہے۔ یہ محبت ذات خداوندی سے عاشقانہ تعلق کی بنا پر نہیں ہوتی۔ اسلام کا تصورِ محبت تمام تر انعاماتِ الہی (divine blessings) کی بنیاد پر قائم ہے ۔ انسان موجودہ دنیا میں خدا کے بے شمار انعامات کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ انعامات آدمی کے اندر منعم (giver) کے لیے گہرا قلبی تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی گہرے قلبی تعلق کا نام محبت الہی ہے۔ عشق گویا کہ فزیکل لو (physical love) کا نام ہے، اور اس کے مقابلے میں، محبت گویا کہ اسپرپچول لو (spiritual love) کا نام۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان، خدا کو اس کے انعامات کے واسطے سے دریافت کرتا ہے۔ انعام کی یہ دریافت (discovery) فطری طور پر آدمی کے اندر منعم کے لیے اعتراف(acknowledgement) کا ذہن پیدا کرتی ہے۔

عبادت الہی کی اصل یہی اعتراف (acknowledgement) ہے۔ حمد اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ اصلاً اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اسی اعتراف کے مختلف نام ہیں۔ اس اعتراف میں جب والہانہ قلبی جذبات شامل ہو جائیں تو اسی کا نام محبت ہے۔

محبت فطری محبت کا نام ہے، اور عشق غلو آمیز محبت کا نام، اور قرآن اور حدیث کے واضح نصوص کے مطابق، غلو اسلام میں نہیں (لا غلو في الإسلام)۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page