No absolute frame of reference exists.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۱
تکلیف دہ ہے تو جہنم کی گرمی کتنی زیادہ تکلیف دہ ہوگی۔ اس قسم کی اور بھی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ وہ سب بطور تمثیل ہیں، نہ کہ بطور بیان واقعہ۔
سوال
آپ نے ’’تذکیر القرآن‘‘ (204-212: 26) میں تشریح کے تحت درج کیا ہے کہ: ’’پیغمبر کی سطح پر جب دعوت ظاہر ہوتی ہے تو وہ اپنی آخری کامل صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کا انکار کرنے والی قوم پر خدا کا عذاب آنا لازمی ہو جاتا ہے‘‘ (صفحہ 1048)۔ آپ نے اپنی تشریح میں کئی جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ پیغمبروں کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد مخاطب قوم جینے کا حق کھودیتی ہے۔ اقوام کی تاریخ آپ کی تشریح کی شہادت دیتی ہے، مگر یہود کا معاملہ مستثنیٰ نظر آتا ہے۔ حالاں کہ قوم یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا، مگر پھر بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے جینے کا حق نہیں چھینا۔ اس کا کیا جواز ہے (رستم علی، پٹنہ، بہار)
جواب
پیغمبر کے ذریعے اتمامِ حجت کے بعد مدعو قوم پر ضرور عذاب آتا ہے، لیکن اس کی صورت ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی۔ حضرت مسیح کے ذریعے اتمامِ حجت کے بعد یہود بھی اس قانونِ الہی کی گرفت میں آئے، لیکن اُن کے ساتھ عذابِ مستاصل کا معاملہ نہیں کیا گیا، بلکہ وہ معاملہ کیا گیا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ضربت عليهم الذّلة والمسكنة (61: 2)۔ اس آیت میں ذلت اور مسکنت سے مراد مادی ذلت اور مسکنت نہیں ہے، بلکہ نفسیاتی ذلت اور مسکنت ہے۔ مزید یہ کہ مسلمان اگر حدیث کی پیش گوئی کے مطابق، یہود کے طریقے کا اتباع کرنے لگیں، تو وہ بھی اس قانون الہی کی گرفت میں آجائیں گے۔
سوال
حدیث میں آیا ہے کہ آخری زمانے میں ایک شخص اٹھے گا، جو المہدی ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا المہدی کوئی سیاسی لیڈر ہوں گے، نیز یہ کہ کیا المہدی انوکھی اور پراسرار شخصیت کے حامل
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues