لاشعور کی سطح پر معرفت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۱
لاشعور کی سطح پر معرفت
قرآن میں ابتدائی انسان کے بارے میں جو باتیں بتائی گئی ہیں، اُن میں سے ایک وہ ہے جس کو "عہدِ الست" کہا جاتا ہے، یعنی پہلا خدائی عہد (first divine covenant)۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر سات میں آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھیرایا خود اُن کے اوپر۔ کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں ۔ انھوں نے کہا ہاں ، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی ‘‘ (7:172)
اس آیت کے تحت، عبداللہ بن عباس کی ایک روایت نقل ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ردّ هم في أصلاب آبائهم حتى أخر جهم قرناً بعد قرن (الرد على الجهمية لابن منده، رقم الحديث: 38)۔ یعنی خدا نے ذریتِ بنی آدم کو دوبارہ اُن کے آباء کے صُلب میں لوٹا دیا اور پھر مختلف ادوار میں وہ ان کو پیدا کرتا رہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا نے آغازِ حیات میں تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا کیا، پھر اُن سے مذکورہ عہد لیا۔ یہ عہد کیا تھا۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے، یہ عہد معرفت کا عہد تھا۔ ابن جریر طبری نے اس سلسلے میں اپنی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے: قال ابن عباس ....... ثم أخذ عهودهم على الإيمان والمعرفة له (جامع البيان عن تأويل آي الفرقان، جلد 9، صفحہ 114) یعنی ذریتِ آدم کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے اُن سے ایمان اور معرفت کا عہد لیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی معرفت کو ہر انسان کے لاشعور میں داخل کر دیا۔ اب ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ لاشعور کی سطح پر معرفتِ خداوندی کو لے کر پیدا ہوا ہے۔ اس معاملے میں کسی عورت، یا کسی مرد کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔
مگر تاریخ بتاتی ہے کہ آغازِ حیات سے اب تک بہت کم لوگ ایسے نکلے جو اپنے اس لاشعور کو پڑھیں، جو اپنی فطرت کی اس داخلی آواز کو سن سکیں۔ اس فطری معاملے کی بنا پر ایسا تو ہوا کہ ہر شخص کسی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues