Al-Risala · September 2011 · page 22

لاشعور کی سطح پر معرفت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲

نہ کسی درجے میں حق کا متلاشی (seeker) بنا، لیکن بہت تھوڑے افراد کو چھوڑ کر، کوئی بھی اپنی تلاش کو اس کی آخری منزل تک نہ پہنچا سکا۔

اس عمومی ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ القیامہ میں ارشاد ہوا ہے: بل الإنسان علی نفسه بصیرة، ولو القی معاذیره (15-74:75) یعنی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر آپ گواہ ہے، خواہ وہ کتنے عذر ات پیش کرے۔ اس قرآنی بیان سے معلوم ہوا کہ انسان کی اس ناکامی کا اصل سبب عذرات (excuses) ہیں۔ انسان کی داخلی فطرت ہر موقع پر اس کی خاموش رہنمائی کرتی ہے۔ اسی فطرت کو قرآن میں داخلی برہان (12:24) کہا گیا ہے۔ لیکن انسان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک عذر (excuse) لے کر، فطرت کی اس آواز کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک شخص کسی زندہ یا مردہ ہستی کو بڑا مان کر اس کی پرستش شروع کر دے گا۔ پھر اس کا ربانی لا شعور اندر سے اس کو آواز دے گا کہ پرستش تو صرف خالق کا حق ہے، تم مخلوق کی پرستش کیوں کر رہے ہو۔ مگر یہاں اس کا ذہن ایک خود ساختہ عذر تلاش کر لے گا۔ وہ کہے گا کہ میں اس زندہ یا مردہ ہستی کو خدا نہیں مانتا، بلکہ ان کو خدا کا مقرب مانتا ہوں۔ یہ لوگ خدا کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ میرے لیے خدا کے یہاں وسیلہ بن سکتے ہیں۔ اس لئے میں ان کے آگے جھک کر ان کو راضی کر رہا ہوں، تا کہ وہ خدا کے یہاں میرے سفارشی بن سکیں۔

اس قسم کا عذر بلا شبہ ایک بے بنیاد عذر ہے۔ وہ ہر گز خدا کے یہاں قبول کیا جانے والا نہیں۔ لیکن بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اس قسم کے خود ساختہ خیال میں جیتے رہے اور اسی میں مر گئے۔ اسی طرح ایک شخص کسی معاملے میں ایک آدمی کے اوپر غصہ ہو جائے گا۔ وہ اس سے انتقام لینا چاہے گا۔ اب اس کے اندر کی خدائی آواز اس کو پکارے گی اور کہے گی کہ انتقام لینا ایک گناہ کا کام ہے۔ تم اُس شخص سے درگزر کا معاملہ کرو اور اس کو معاف کر دو۔ مگر اس کا ذہن فوراً ایک عذر تلاش کرلے گا۔ وہ کہے گا کہ ایسے آدمی کو سبق سکھانا ضروری ہے۔ اگر تم اس وقت خاموش ہو گئے تو وہ اور

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page