Al-Risala · September 2011 · page 23

شعور کی سطح پر معرفت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۳

دلیر ہو جائے گا اور تمھارے خلاف مزید کارروائی کرے گا۔

یہ عذر بھی ایک بے بنیاد عذر ہے۔ ایسا عذر کبھی خدا کے یہاں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ لیکن بے شمار لوگ اس خود ساختہ عذر میں جیتے ہیں اور اسی میں مرجاتے ہیں۔

شعور کی سطح پر معرفت

لاشعور کی سطح پر معرفت کا انتظام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے شعور کی سطح پر انسان کی ہدایت کے لیے دوسرا انتظام فرمایا۔ اب خدا نے معرفت کو منطوق آواز (spoken language) کی صورت میں ظاہر کیا۔ یہ کام خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ اس مقصد کے لیے خدا نے مسلسل طور پر پیغمبر بھیجے۔ ان پیغمبروں کو خدا نے بذریعہ وحی، معرفت کا علم دیا۔ پھر انھوں نے لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں اُن کو زندگی کی اِس حقیقت سے باخبر کیا، تا کہ لوگ شعور کے درجے میں اُس معرفت کو حاصل کر سکیں، جو لاشعور کے درجے میں ان کی فطرت میں پیوست کر دی گئی تھی۔

مگر عجیب بات ہے کہ حصولِ معرفت کا یہ دوسرا انتظام بھی انسان کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔ دوبارہ یہی ہوا کہ انسان، پیغمبروں اور داعیوں کی ساری کوشش کے باوجود وہ ان کو نظر انداز کرتا رہا۔ وہ پیغمبروں کی تمام تر دعوتی جد و جہد کے باوجود شعور کی سطح پر حقیقت کو دریافت نہ کر سکا۔ ایسا کیوں ہوا۔ اِس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ یٰس میں ارشاد ہوا ہے: يحسرة على العباد، ما يأتيهم من رسول إلا كانوا به يستهزءون (36:30) یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو پیغمبر بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا استہزا کرتے رہے: Alas for human beings! They ridicule every prophet that comes to them. کوئی آدمی جب کسی کا استہزا کرتا ہے، یا اس کا مذاق اڑاتا ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے اس کو حقیر سمجھنا۔ چناں چہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قدیم عرب میں پیغمبر کی حیثیت سے آئے، تو وہاں کے سرداروں نے کہا: لولا نزل هذا القرآن علی رجل من

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page