شعور کی سطح پر معرفت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴
القریتین عظیم (43: یعنی یہ قرآن دونوں بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔
اس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کے ایک اور بیان سے ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ انعام کی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: "اور وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملے کا فیصلہ ہوجاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، تو اُس کو بھی ہم آدمی بناتے اور اُن کو اُسی شبہہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اُڑایا گیا، تو اُن میں سے جن لوگوں نے مذاق اُڑایا، اُن کو اُس چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے" (10-8: 6)۔
قرآن کا یہ بیان پیغمبروں کی تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر پیغمبر بظاہر عام انسانوں کی طرح انسان ہوتا تھا۔ اس لیے جب خدا اُس پر وحی بھیجتا اور وہ لوگوں سے کہتا کہ مجھے خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے تمھارے پاس بھیجا ہے، تو وہ یہ دیکھ کر اس کو نظر انداز کر دیتے کہ تم تو ہم کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتے ہو، پھر کیوں ہم تم کو خدا کا پیغمبر مانیں۔
اس کا جواب مذکورہ آیت میں یہ دیا گیا کہ خدا کے قانون کے مطابق، یہ التباس کا ایک معاملہ ہے۔ امتحان کی مصلحت کی بنا پر اس دنیا میں ہمیشہ سچائی کے ساتھ ایک شبہہ کا عنصر (element of doubt) موجود رہتا ہے۔ اس مصلحت کی بنا پر یہی ہوگا کہ خدا کا پیغام کسی غیر معمولی فرشتے کے ذریعے نہیں دیا جائے گا، بلکہ ایک انسان کے ذریعے دیا جائے گا۔ تم سچائی کو صرف اُسی وقت پا سکتے ہو جب کہ تم شبہہ کے پردے کو پھاڑ اور خالص جوہر ذاتی (merit) کی بنیاد پر حق کے داعی کو پہچانو۔ معرفت بذریعہ آیات کائنات اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے معرفتِ حق کے لیے ایک اور انتظام کیا۔ یہ انتظام تھا— خدا کی تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیوں کو ظاہر کرنا۔ اس خدائی منصوبہ کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 41 میں پیشگی طور پر کیا گیا تھا ۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: " مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues