شعور کی سطح پر معرفت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵
اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح یہ کھل جائے کہ یہ قرآن حق ہے‘‘ (41:53)۔ خدا نے اپنے ان خصوصی منصوبہ کو موجودہ زمانے میں سائنس دانوں کے ذریعے پورا کیا۔ موجودہ زمانے میں سائنس دانوں نے عالمِ طبیعیات (physical world) میں جو دریا فتیں کی ہیں، وہ دریافتیں گویا کہ آلاء اللہ کا مشاہداتی اظہار ہیں۔ خدا نے اپنے پیغمبر ابراہیم کو ملکوت السماوات والارض (6:76) کا خصوصی مشاہدہ کرایا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی اِس نشانیوں (sign) کو خود علم انسانی کے ذریعے عمومی سطح پر لوگوں کے لیے قابل مشاہدہ بنا دیا۔
موجودہ زمانے میں اِس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ راقم الحروف نے بھی اِس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ امریکا کے ایک سائنس داں ڈاکٹر کریسی ماریسن (وفات: 1951) نے اِس موضوع پر ایک کتاب شائع کی ہے۔ اِس کتاب کا انگریزی ٹائٹل (Man Doesn't Stand Alone) ہے۔ اِس کتاب کا عربی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ اِس عربی ایڈیشن کا نام با معنی طور پر یہ ہے: الله يتجلى في عصر العلم۔
مگر دوبارہ ایسا ہوا کہ بہت کم ایسے انسان نکلے جو اِس سائنسی انقلاب سے معرفت کی غذا لے سکیں۔ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت نے دوبارہ یہ غلطی کی کہ اُس نے انحراف کا ایک طریقہ اختیار کیا اور انسان دوبارہ معرفت کے حصول سے محروم رہا۔
اصل یہ ہے کہ جدید سائنس کے دو شعبے ہیں ۔ ایک ہے، نظریاتی سائنس (theoretical science)، اِس کا دوسرا شعبہ وہ ہے جس کو انطباقی سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ نظریاتی سائنس کامل طور پر معرفت کی سائنس تھی۔ اُس کے مطالعے سے انسان، خدا کو اور خدائی حقیقتوں کا علم حاصل کر سکتا تھا۔ لیکن انسان نے نظریاتی سائنس سے یہ خدائی رزق نہیں لیا، وہ بدستور معرفت سے محروم بنارہا۔
انطباقی سائنس وہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ٹکنکل سائنس (technical science) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی دریافتوں نے ایک نئی ٹکنالوجی دی۔ اِس جدید ٹکنالوجی کے ذریعے نئی مشینہیں بنیں،
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues