معرفت بذریعہ فائنل اظہار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶
نئی قسم کی بلڈنگیں تیار کی گئیں، نئی قسم کی سواریاں بنیں، نئی قسم کی اشیاء صرف (consumer goods) وجود میں آئیں۔ سماجی ترقی کا وہ اعلیٰ نظام قائم ہوا جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے، وغیرہ۔
مذکورہ قسم کی صنعتی ترقیوں سے جدید انداز کے پرکشش شہر وجود میں آئے۔ ان ترقیوں کے نتیجے میں انسان کو عیش اور راحت کا جو سامان ملا، وہ مادی اعتبار سے اتنا پرکشش تھا کہ انسان اس میں کھو گیا۔ انسان نے شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھا کہ جدید ترقیوں کے بعد اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنی جنت بنا سکے۔ وہ بعد از موت دورِ حیات (post death period) میں ملنے والی جنت کا انتظار نہ کرے، بلکہ قبل از موت دورِ حیات (pre-death period) میں اپنی جنت بنا کر اُس میں عیش کی زندگی گزارے۔
جدید سائنس، انسان کے لیے معرفت کی روشنی تھی، لیکن انسان اُس سے معرفت کی روشنی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس طرح یہ ہوا کہ خدا نے معرفت کا جو تیسرا دروازہ کھولا تھا، وہ بھی انسان کی نادانی سے اس کے اوپر بند پڑا رہا۔
معرفت بذریعہ فائنل اظہار
خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، انسان سے جو معرفت مطلوب ہے، وہ براہِ راست مشاہدہ کے بغیر مطلوب ہے۔ اسی بلا مشاہدہ معرفت کو قرآن میں ایمان بالغیب (2: 3) کہا گیا ہے۔
اوپر معرفت کے جن تین درجوں کا ذکر کیا گیا، اُن کا تعلق اُسی قسم کی بلا مشاہدہ معرفت سے ہے۔ انسان کی پچھلی تاریخ، معرفت کے اُنھیں درجات کی تاریخ کا دوسرا نام ہے۔ مگر جب انسان اِس نوعیت کی معرفت کے حصول میں ناکام رہے، تو وہ وقت آجاتا ہے جب کہ حقیقت سے پردہ اُٹھا دیا جائے، تاکہ انسان اُن حقیقتوں کو براہِ راست طور پر دیکھ لے جن کو وہ بالواسطہ طور پر دیکھنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ یہ بات قرآن میں بار بار مختلف انداز سے بتائی گئی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues