Al-Risala · September 2011 · page 27

معرفت بذریعہ فائنل اظہار

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷

اس نوعیت کی چند قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:

”اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔ اور صور پھونکا جائے گا، یہ ڈرانے کا دن ہوگا۔ ہر شخص اس طرح آگیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ تم اس دن سے غفلت میں رہے، پس ہم نے تمھارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا، تو آج تمھاری نگاہ تیز ہے“(19-22: 50)

مذکورہ قرآنی آیت میں انسانی تاریخ کے آخری دور (final phase of human history) کا ذکر ہے۔ انسانی تاریخ کے اسی آخری دور کا دوسرا نام قیامت (Doomsday) ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب اس آخری دور کے ظاہر ہونے کا وقت بالکل قریب آپہنچا ہے۔ تمام دنیا کے سائنس داں متفقہ طور پر جس گلوبل وارننگ (global warming) کی خبر دے رہے ہیں، وہ دراصل گلوبل وارمنگ (global warning) ہے۔

سائنس دانوں کے مشاہدے کے مطابق، انسانی تاریخ کے خاتمہ کا عمل تیزی سے شروع ہو چکا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوگا کہ زمین کے اوپر قائم کردہ لائف سپورٹ سسٹم بالکل تباہ ہو جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت جلد دنیا انسان کے لیے نا قابل رہائش (inhabitable) بن جائے گی۔ جدید سائنسی مشاہدہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تباہی کا یہ عمل اتنا زیادہ مہلک ہے کہ وہ اب نا قابل اعادہ (irreversible) بن چکا ہے۔ اب اس کو دوبارہ پیچھے کی طرف لوٹایا نہیں جاسکتا۔ قرآن کے مطابق، دنیا کا آخری خاتمہ اُس وقت ہوگا جب کہ فرشتہ اسرافیل اپنا صور پھونک دے۔ تاہم اس آخری انجام سے پہلے خدا کچھ نشانیاں ظہور میں لا رہا ہے۔ یہ انسان کے لیے گویا آخری موقع ہے، تاکہ اب سے وہ ہوش میں آئے اور اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو ابدی جنت کا مستحق بنالے۔ موجودہ گلوبل وارمنگ اور اُس سے پیدا ہونے والے حالات اسی قسم کی ایک پری فائنل وارننگ (pre-final warning) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

گلوبل وارمنگ دراصل قرب قیامت کی علامت (sign) ہے۔ قرآن اور حدیث میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page