No absolute frame of reference exists.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۲
ہوں گے کہ ان کو دیکھتے ہی تمام مسلمان ان کو پہچان کر متفقہ طور پر اُن کے ساتھی بن جائیں گے۔ براہِ کرم، اِس کی وضاحت فرمائیں۔ (شاہ عمران حسن، نئی دہلی)
جواب
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دورِ آخر میں امت محمدی کے اندر ایک شخص اٹھے گا۔ حدیث میں اس کو المہدی کہا گیا ہے۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں المہدی کا رول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: یملأ الأرض قسْطاً وعداً كما مُلئت جوراً وظُلماً (كتاب المهدى، رقم الحديث: 2485) یعنی مہدی زمین کو قسط اور عدل سے بھر دے گا، جیسا کہ اس سے پہلے وہ جور و ظلم سے بھر دی گئی تھی۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سیاسی اقتدار کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ نظریاتی توسیع کے معنی میں ہے۔ یہی بات حدیث کے دونوں حصوں کے بارے میں درست ہے، یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ مہدی سے پہلے ساری زمین پر ظلم و جور کا سیاسی اقتدار قائم ہوگا اور مہدی اس کے بجائے ساری زمین پر قسط و عدل کا اقتدار قائم کردے گا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مہدی سے پہلے دنیا میں غلط نظریے کی عمومی اشاعت ہو جائے گی۔ مہدی اس کے بجائے یہ کرے گا کہ وہ دنیا میں صحیح نظریے کی عمومی اشاعت کرنے میں کامیاب ہوگا۔ اس اعتبار سے، حدیث کی تشریح ان الفاظ میں کرنا درست ہے: یملأ الأرض قسْطاً وعدْلاً بكلمة الحق كما ملئت جوراً وظُلماً بكلمة الباطل۔
المہدی کوئی انوکھی چیز نہیں ہوگا، وہ عام مصلحین کی طرح ایک مصلح ہوگا۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ عام مصلحین اور مجددین عالمی کمیونیکیشن (global communication) سے پہلے پیدا ہوئے، جب کہ المہدی کی امتیازی صفت یہ ہوگی کہ وہ عالمی کمیونیکیشن کے زمانے میں پیدا ہوگا۔ اس بنا پر اس کی دعوتی اور فکری جدوجہد کا دائرہ عالمی بن جائے گا، جب کہ اس سے پہلے کے مصلحین اور مجددین کا دائرہ صرف محلی اور مقامی ہوا کرتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ المہدی کا ظہور قانونِ فطرت کے مطابق ہوگا، اور قانونِ فطرت کے مطابق ہی اس معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues