No absolute frame of reference exists.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۳
رسول اللہ ﷺ ہجرت سے پہلے، نبوت کے دسویں سال، مکہ سے طائف گئے۔ طائف اُس زمانے کا ایک خوش حال شہر تھا۔ اُس وقت وہاں کے تمام لوگ بت پرست تھے آپ نے طائف کے تین سرداروں سے ملاقات کی اور بتایا کہ خدا نے مجھے اپنا رسول بنایا ہے۔ اس کے بعد ان سرداروں نے آپ کا مذاق اڑایا اور آپ کی توہین کی۔ ایک سردار نے کہا: أما وجد اللہ أحداً أرسلہ غيرك (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، 2/149) یعنی کیا اللہ نے کسی اور کونہیں پایا کہ وہ اُس کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجے ۔ یہی اپنے زمانے میں خدا کے تمام پیغمبروں کا حال ہوا ہے۔ ہر ایک کو ان کے معاصرین نے کم سمجھا، اور اُن کا استہزاء (36:30) کیا۔ اس معاملے میں کسی بھی پیغمبر کا، حتیٰ کہ پیغمبر اسلام کا بھی کوئی استثناء نہیں ہے۔ لوگ پیغمبروں کو ان کے بعد کے زمانے کے حوالے سے پہچانتے ہیں۔ پیغمبروں کو پہچاننے والا صرف وہ شخص ہے جو اُن کو اُن کے ابتدائی زمانہ یا ان کے معاصر زمانہ کے اعتبار سے دیکھ سکے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ انسانی تاریخ کے آخری زمانے میں مہدی اور مسیح آئیں گے، لیکن وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر مہدی اور مسیح کو ایک مستثنیٰ شخصیت مانتے ہیں۔ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ مہدی اور مسیح جب آئیں گے تو آتے ہی اُن کی تاج پوشی کی جائے گی اور تمام مسلمان متفقہ طور پر ان کو اپنا سردار بنالیں گے۔ بطور واقعہ جو کچھ ہونے والا ہے، وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ قدیم زمانے کے یہود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے، مگر ان کا حال یہ ہوا کہ جب پیغمبر آئے تو وہ ان کا انکار کرنے والے بن گئے (89:2)۔ یقینی طور پر یہی واقعہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا ہے۔ مہدی اور مسیح جب ظاہر ہوں گے تو موجودہ مسلمان یقینی طور پر ان کا انکار کرنے والے بن جائیں گے۔ سوال ایک حدیث رسول کے مطابق، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان والوں کے لیے یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ! آل محمد کو بقدر کفاف روزی دے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے اس قسم کی دعا کیوں کی، حالاں کہ مال بھی کسب آخرت کے وسائل میں سے ہے۔ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔ (عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues