Equal in respect, and different in role.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۳
2- برطانیہ میں مقیم مسلمانوں اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے عقائد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی جذباتیت کا سبب بنیادی طور پر صرف ایک ہے، اور وہ اردو زبان ہے۔ برطانیہ کے مسلمان زیادہ تر اردو اسپیکنگ علاقوں مثلاً انڈیا اور پاکستان سے آئے ہیں۔ موجودہ زمانے میں اردو زبان میں جو لٹریچر پیدا ہوا، بعض علاقائی سبب سے وہ زیادہ تر جذباتی اسلوب پر مبنی تھا۔ اردو زبان میں شاعری اور انشا پردازی اور خطابت کا بہت زیادہ رواج ہوا۔ اردو ماحول میں تربیت پائے ہوئے یہ لوگ بڑی تعداد میں برطانیہ گئے۔ مزید یہ کہ اس کے بعد ان کا رشتہ اردو اسپیکنگ علاقوں سے منقطع نہیں ہوا۔ اس علاقے کے شاعر اور ادیب اور خطیب برابر وہاں جاتے رہے۔ اس طرح برطانیہ میں اردو کلچر برابر فروغ پاتا رہا۔ زیادہ تر یہی اردو اسپیکنگ لوگ ہیں جو جذباتی اشو پر ہنگامہ کرتے رہتے ہیں۔ اس قسم کے ہنگاموں کا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ادنیٰ درجے کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ 3- پردہ (veil) کی موجودہ صورت بعد کے زمانے میں ڈیولپ ہوئی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتوں کے لیے موجودہ قسم کے برقع کا وجود نہ تھا۔ عورتوں کے بارے میں اسلام کا جو اصول ہے، وہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ اسلام مخلوط سوسائٹی (mixed society) کے خلاف ہے۔ اسلام اس کو پسند نہیں کرتا کہ عورت اور مرد دونوں مچھلی کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط ہو کر رہیں۔ اسلام کے مطابق، یہ بھی ایک غیر فطری بات ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا ورک پلیس (work place) ایک ہو۔ اسی طرح برہنگی (nudity) بھی اسلامی تعلیم کے مطابق، جائز نہیں۔
اس معاملے میں اسلام کا جو اصول ہے، وہ یہ ہے کہ عورت اور مرد شادی شدہ زندگی گزاریں۔ عورت جب باہر نکلے تو سادگی کے ساتھ نکلے۔ وجہ اور کفین کے سوا، اس کا پورا جسم ڈھیلے کپڑوں سے ڈھکا ہوا ہو۔ مسجد میں عورتوں کے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، البتہ ڈسپلن کی خاطر یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ باجماعت نماز میں عورتوں اور مردوں کی صفیں الگ الگ ہوں ۔ عورت کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے :
Equal in respect, and different in role.
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues