Al-Risala · September 2011 · page 44

Muslims Must Ignore Cartoons

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۴

4 - ڈنمارک کے ایک مقامی اخبار (Jyllands Posten) میں چھپنے والے کارٹون کو مسلمانوں نے جس طرح توہینِ رسول کا مسئلہ بنایا اور اُس پر شدید ہنگامے کیے، اُس کا کوئی بھی تعلق، اسلام سے نہ تھا۔ مذکورہ کارٹون کی حیثیت تو صرف ایک صحافتی جوک (joke) کی تھی۔ اِن قسم کا جوک موجودہ صحافت میں عام ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اُسی کے ردِعمل میں جس طرح نفرت اور تشدد کا مظاہرہ کیا، وہ بلاشبہ توہینِ رسول کا ایک فعل تھا۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کے زمانے میں بار بار اِس نوعیت کے واقعات ہوئے ہیں، لیکن آپ نے اُن کے مقابلے میں صرف ایک روش کا اظہار کیا، اور وہ اِس واقعات کو نظر انداز کرنا تھا۔ چناں چہ میں نے ڈنمارک کے کارٹون کا واقعہ پیش آنے کے بعد ایک آرٹیکل لکھا تھا، جو اِس زمانے میں نئی دہلی کے انگریزی اخبار پائنر(The Pioneer) کے شمارہ 2 مارچ 2006 میں درج ذیل عنوان کے تحت چھپا :

Muslims Must Ignore Cartoons

پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ ہر اُس اقدام سے بچو جس سے اسلام کی امیج خراب ہوتی ہو۔ موجودہ زمانہ آزادی اظہارِ رائے (freedom of expression) کا زمانہ ہے۔ ایسے زمانے میں کارٹون جیسے مسئلہ پر ہنگامہ کھڑا کرنا، یقینی طور پر یہ تاثر پیدا کرے گا کہ اسلام آزادی اظہارِ رائے کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں کارٹون جیسے مسائل پر ہنگامہ آرائی کرنا کسی بھی عذر کی بنا پر جائز نہیں ہوسکتا۔ اگر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں، تب بھی اُنھیں کامل اعراض سے کام لینا چاہئے۔ جذبات کا مجروح ہونا، اُن کے لیے اِس معاملے میں کوئی عذر نہیں بن سکتا۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں : The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)

Tel.: 022-42214700, Fax: 022-28236323 Email: spiritual.msg@gmail.com

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page