Al-Risala · September 2011 · page 45

Muslims Must Ignore Cartoons

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۵

خبر نامہ اسلامی مرکز 212

1۔ کشمیر دعوہ میٹ (فروری 2011) کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانے پر دعوہ ورک شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں 17-16 مئی 2011 کوسری نگر (کشمیر) میں جموں کشمیر پیس فاؤنڈیشن کی طرف سے ایک امن کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اور مسلم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ خاص طور پر گورنر کشمیر مسٹر این این وہرا، سوامی اگنی ویش، جی او سی روی تھوگڑے، اور پروفیسر رادھا کمار کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ اس کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا۔

2- سہارن پور (یوپی) میں ہمارے ساتھی بڑے پیمانے پر دعوتی کام کر رہے ہیں۔ اس کی رپورٹ حسب ذیل ہے :

ہیں حال میں 29 مئی 2011 کوایک دعوتی اجتماع میں غیر مسلم بھائیوں کو قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیا گیا۔ مسٹر اسوانی نے کہا کہ میں کافی دن سے مولا نا وحید الدینک خاں کی کتابیں پڑھ رہا ہوں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ روحانیت کیا ہے، نیز اس کا علم ہوا کہ آواگون کا نظریہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ 3- نیشنل میڈیکل کالج میں 5 جون 2011 کو اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کی ایک ٹیم آئی۔ اس موقع پر ٹیم کے لوگوں کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیا گیا۔ پروفیسر روساریہ نے کہا کہ ہم کسی مذہبی کتاب کو نہیں مانتے تھے، لیکن اگنو (IGNOU) میں’’اسلام اور آنک وائڈ‘‘کے موضوع پر مولانا وحید الدین خاں کی تقریر سننے کے بعد اب میرے دل میں قرآن اور پیغمبر اسلام کے بارے میں جاننے کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس موقع پر پروفیسر ارورانے خاص طور پر قرآن کا ہندی ترجمہ حاصل کیا۔

4- ہندی روزنامہ دین جاگرن کی طرف سے 8 جون 2011 کوسہارن پور کے سب سے بڑے ہوٹل ’’پنجاب‘‘ میں ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر محمد اسلم خان کو بطور مہمان بلایا گیا تھا۔ سہارن پور کے دوسرے ہوٹلوں کی طرح، یہاں بھی سی پی ایس سہارن پور کے ساتھیوں نے قرآن کے اسٹینڈ رکھے تھے۔ لوگ یہاں سے قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ خرید کر حاصل کرتے ہیں۔ اس کی شکل یہ ہے کہ قرآن کے ترجمے کا ایک نسخہ (copy) 50 روپے کا ہوتا ہے۔ اس میں سے 25 روپے ہوٹل کا انتظام یہ لیتا ہے اور 25 روپے سی پی ایس کے لوگوں کو واپس کردیتا ہے، تاکہ وہ قرآن کے مزید نسخے خرید کر وہاں رکھ سکیں۔ یہ ایک پریکٹیکل طریقہ ہے۔ لیکن پنجاب ہوٹل کے مالک سردار سرجیت سنگھ نے سی پی ایس کے لوگوں کو 50 روپے کاپی کے حساب سے پیسے واپس کئے۔ جب اُن سے کہا گیا کہ آپ ہم کو صرف 25 روپے کے حساب سے پیسے واپس کیجئے، 25 روپے انتظامیہ کے لیے بطور نفع کاٹ لیجئے۔ اس پر سردار سرجیت سنگھ اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے ۔ انھوں نے انتہائی لجاجت کے ساتھ کہا کہ :’’جس اللہ نے ہم کو اتنی ساری نعمتیں دے رکھی ہیں، ہم اُس اللہ کی کتاب پر منافع لے کر

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page