Al-Risala · January 2011 · page 44

ہدیہ : صرف -/ 25 روپے

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۴

جواب

یہ حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے : اللہم ارزق آل محمد قوتاً (کتاب الرقاق)۔ اس کے علاوہ، مذکورہ حدیث صحیح مسلم، الترمذی، النسائی اور ابن ماجہ میں حسب ذیل الفاظ میں آئی ہے: اللہم اجعل رزق آل محمد قوتاً۔ دونوں روایتوں کا مفہوم ایک ہی ہے، یعنی اے اللہ، آل محمد کا رزق بقدرقُوت یا بقدر کفاف عطا فرما۔ اس کا مطلب ہے گزارہ (sustenance) کے بقدر روزی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم مال والا ہونا افضل ہے اور زیادہ مال والا ہونا غیر افضل ہے۔ یہ بات دراصل عملی پہلو کے اعتبار سے کہی گئی ہے، نہ کہ اصولی اعتبار سے۔ مال کو قرآن میں قیام (5: کہاگیا ہے، یعنی زندگی کے لیے مددگار (supporter)۔ اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ زیادہ مال دے اور وہ اس کو امورِ خیر میں لگائے، وہ اس کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال کرے تو بلاشبہہ ایسا مال ایک نعمت ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ زیادہ مال پا کر آدمی اس کو اپنی مادی سہولتوں میں اضافے کے لیے استعمال کرے تو ایسا مال اس کے لیے غیر مطلوب بن جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہلِ خاندان کے لیے جو دعا فرمائی، وہ اعلیٰ معیار کی نسبت سے نہ تھی، بلکہ عملی (practical) تقاضے کی بنا پر تھی ۔ کیوں کہ ننانوے فی صد سے زیادہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ زیادہ مال کو عیش و عشرت میں اضافے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے آپ نے مذکورہ قسم کی دعاء فرمائی۔ یہ دعاء مطلق معنی میں نہیں ہے، اس لیے حدیث میں آیا ہے کہ: نعم المال الصالح للرجل الصالح (اچھا مال اچھے آدمی کے لیے بہترین سرمایہ ہے)۔ ہندی ترجمہ قرآن زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔

ہدیہ : صرف -/ 25 روپے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page