Al-Risala · October 2011 · page 4

Seal: To close completely

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴

زیادہ تھی ۔ اس کے بعد 632 عیسوی میں جب مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی، اُس وقت عرب کے تقریباً تمام لوگ اسلام میں داخل ہو چکے تھے اور آپ کے اصحاب کی تعداد دولاکھ سے زیادہ ہو گئی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طور پر یہ معاملہ ہوا کہ آپ کو اتنی بڑی تعداد میں قابل اعتماد رفقا حاصل ہو گئے ۔ یہ ایک انتہائی طاقت ور ٹیم تھی۔ مورخین کی شہادت کے مطابق، اس ٹیم کا ہر فرد ایک ہیرو (hero) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت عرب کے باہر دو بڑے ایمپائر موجود تھے— بازنطینی ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر (Byzantine Empire & Sassanid Empire)۔ یہ دونوں ایمپائر اسلامی مملکت کے خلاف ہو گئے۔ اس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل اسلام کو جیت ہوئی اور دونوں ایمپائر ٹوٹ کر ختم ہو گئے ۔ یہی وہ عظیم واقعہ ہے جس کو بائبل میں بطور پیشین گوئی ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے— ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے : And the everlasting mountains were scattered (Habakkuk 3: 6)

اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بہت جلد بعد ایک عظیم مسلم سلطنت بن گئی جو اسلام کی پشت پر ایک مضبوط سیاسی طاقت کی حیثیت رکھتی تھی ۔ اصحاب رسول اور اہل اسلام کا یہ سیاسی غلبہ تاریخ کا ایک استثنائی واقعہ تھا۔ مورخین نے عام طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ انڈیا کے ایک مورخ ایم این رائے (وفات : 1954) کی ایک کتاب (The Historical Role of Islam) پہلی بار 1939 میں دہلی سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے اسلامی انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے اُس کو تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ قرار دیا ہے :

The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles (p. 4)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب، قرآن کی حفاظت کے کام میں مسلسل طور پر مشغول ہو گئے ۔ قرآن کو یاد کرنا، قرآن کو لکھنا، قرآن کا چرچا کرنا، یہی اُن کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ اس طرح، اصحاب رسول کی جماعت گویا کہ ایک زندہ کتب خانہ بن گئی۔ پھر جب مسلم سلطنت قائم ہوئی تو حفاظتِ قرآن کی مہم کو ایک سیاسی طاقت کی تائید بھی حاصل ہوگئی۔ حفاظتِ قرآن کا یہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page