Seal: To close completely
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۵
سلسلہ تقریباً ایک ہزار سال تک غیر منقطع طور پر چلتا رہا۔ یہ کسی کتاب کی حفاظت کا ایک استثنائی معاملہ تھا جو قدیم زمانے میں کسی بھی کتاب کے ساتھ پیش نہیں آیا، نہ کوئی دنیوی کتاب اور نہ کوئی دینی کتاب۔ حفاظت قرآن پچھلے زمانے میں انسانوں کی رہ نمائی کے لیے جو پیغمبر آئے، وہ سب اپنے ساتھ خدا کی کتاب اور صحیفے لائے۔ مگر یہ کتابیں اور صحیفے بعد کو محفوظ نہ رہ سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی بھی پیغمبر کے گرد اُس کے ساتھیوں کی کوئی مضبوط ٹیم اکھٹا نہ ہوسکی۔ پیغمبرِ اسلام کے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ آپ کو اپنے پیروؤں (followers) کی ایک مضبوط ٹیم حاصل ہوگئی۔ یہ ٹیم قرآن کی حفاظت کی ضامن بن گئی۔
ایک مستشرق (orientalist) نے اس معاملے کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی وفات کے فوراً بعد آپ کے اصحاب، حفاظت قرآن کے لیے سرگرم ہوگئے۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے تاریخ میں پہلی بار ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ ایک ایسا طریقہ تھا جس کے بعد قرآن کی حفاظت میں کسی قسم کا احتمال سرے سے باقی نہیں رہتا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت ہزاروں کی تعداد میں ایسے اصحاب رسول موجود تھے جن کو پورا قرآن بخوبی طور پر یاد تھا۔ نیز یہ کہ پیغمبرِ اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ اترتا تو آپ اُسی وقت اُس کو قدیم طرز کے کاغذ (قرطاس) پر لکھوا دیتے۔ اصحابِ رسول نے یہ کیا کہ زید بن ثابت الانصاری (وفات: 665ء) کی قیادت میں ایک ٹیم بنائی۔ اِس ٹیم نے قرآن کی تمام تحریروں کو اکھٹا کیا۔ اس کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ قرآن کے تحریری ذخیرے کا تقابل حافظے سے کیا، اور حافظے کا تقابل تحریری ذخیروں سے کیا۔ اس ڈبل چیکنگ کے بعد انھوں نے قرآن کا ایک مستند نسخہ (authentic copy) لکھ کر تیار کیا۔ یہ نسخہ چوکورصورت میں تھا، اِس لیے اُس کو ربعہ (square) کہا جاتا تھا۔ یہ ربعہ، قرآن کا مستند نسخہ قرار پایا۔ لوگوں نے اِس نسخے کی مزید نقلیں تیار کیں۔ اس طرح وہ مسلم دنیا میں ہر طرف پھیل گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues