Al-Risala · October 2011 · page 6

Seal: To close completely

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۶

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام مسلسل طور پر ایک زندہ موضوع بن گیا۔ اہل اسلام، ایشیا اور افریقہ کے درمیان ایک بڑے رقبے میں ہر جگہ پھیل گئے۔ ان لوگوں کی تقریر اور تحریر کا موضوع اسلام تھا۔ قرآن کی کتابت، قرآن کی تفسیر، حدیث کی تدوین، حدیث کی شرح، پیغمبر اسلام کی سیرت، اصحاب رسول کے حالات، اسلام کی تاریخ، فقہ کی ترتیب و تدوین، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد سیکڑوں سال تک یہ موضوعات لاکھوں اہل اسلام کے درمیان تقریر اور تحریر کا موضوع بنے رہے۔ دعوت و تبلیغ کا کام قرآن ہی کے ذریعے کیا جاتا تھا، اس لیے دعوت و تبلیغ کے دوران بھی مسلسل طور پر قرآن کو پڑھنے اور سنانے کا عمل جاری رہا۔ یہ ایک ڈبل حفاظت کا معاملہ تھا۔ اس عمل کے دوران ایک طرف، قرآن اور حدیث کی حفاظت ہوئی اور اسی کے ساتھ عربی زبان ایک زندہ اور محفوظ زبان بنتی چلی گئی۔

یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ فرانس کا حکمراں نپولین (وفات: 1821) 1798 میں مصر میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ساتھ پرنٹنگ پریس بھی لے آیا۔ اس سے پہلے کاغذ سازی کی صنعت 751 عیسوی میں سمرقند میں آچکی تھی۔ اس طرح، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریباً ایک ہزار سال بعد قرآن اور علوم قرآن کی حفاظت پرنٹنگ پریس کے دور میں داخل ہوگئی۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے دستیاب ہونے لگے۔ دور طباعت میں داخل ہونے کے بعد قرآن آخری طور پر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اس کے بعد قرآن میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔

ختم نبوت کے حق میں یہی سب سے بڑا ثبوت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد استثنائی طور پر ایسے اسباب پیدا ہوئے جو خدا کی کتاب کو محفوظ کرنے کے لیے یقینی تدبیر کی حیثیت رکھتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تدبیر اپنے آخری انجام تک پہنچ گئی، یعنی قرآن کامل طور پر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اور جب خدا کی ہدایت کتاب کی صورت میں محفوظ ہو جائے تو ایسی کتاب پیغمبر کا بدل بن جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی آمد کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page