رسول کی بعثت کا مقصد
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۷
رسول کی بعثت کا مقصد
ایک روایت کے مطابق، دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ ان تمام پیغمبروں کا مقصد صرف ایک تھا—انسان کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے آگاہ کرنا۔ تمام پیغمبروں نے مشترک طور پر یہی ایک کام کیا۔ انھوں نے بتایا کہ خدا نے کیوں انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دور حیات (pre-death period) میں انسان سے کیا مطلوب ہے، اور موت کے بعد کے دور حیات (post-death period) میں اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ اسی کو قرآن میں انذار اور تبشیر کہا گیا ہے۔ یہی انذار اور تبشیر تمام پیغمبروں کا مشترک مشن تھا۔ اس کے سوا کوئی چیز اگر کسی پیغمبر کی زندگی میں نظر آتی ہے، تو وہ اس کی زندگی کا ایک اضافی پہلو (relative part) ہے، نہ کہ حقیقی پہلو (real part)۔
موجودہ دنیا میں انسان کی دو ضرورتیں ہیں۔ ایک ہے اس کی مادی ضرورت، جس کی تکمیل فزیکل سائنس (physical science) کے ذریعے ہوتی ہے۔ انسان کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ اُس کے پاس وہ خدائی ہدایت (divine guidance) موجود ہو جس کا اتباع کرکے وہ آخرت میں کامیاب زندگی حاصل کرے۔ اس دوسری ضرورت کی تکمیل پیغمبرانہ الہام سے ہوتی ہے۔ تقریباً فہم کے لیے اس کو ہم ریلیجس سائنس (religious science) کہہ سکتے ہیں۔
فزیکل سائنس میں آخری سائنٹسٹ (final scientist) کا لفظ ایک غیر متعلق (irrelevant) لفظ ہے۔ فزیکل سائنس میں مسلسل طور پر ترقی کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس لیے اس میدان میں کوئی سائنٹسٹ آخری سائنٹسٹ نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس، ریلیجس سائنس ایک ہی خدائی ہدایت (divine guidance) پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ خدائی ہدایت غیر متغیر طور پر ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔ اس لیے ریلیجس سائنس میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ کوئی آخری پیغمبر (final prophet) ہو جو انسان کو خدا کا آخری کلام (final word) دے دے، اور انسانیت کا قافلہ اس کی رہ نمائی میں بھٹکے بغیر مسلسل طور پر اپنے سفر حیات کو جاری رکھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues