Al-Risala · October 2011 · page 8

پیغمبرانہ ہدایت کی ابدیت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۸

خدا کی طرف سے آنے والا ہر پیغمبر ایک ہی ابدی ہدایت لے کر لوگوں کے پاس آیا۔ لیکن بشری تقاضے کے تحت جب پیغمبر کی وفات ہوئی تو اس کے بعد اس کی لائی ہوئی خدائی ہدایت محفوظ نہ رہ سکی۔ اس لیے بار بار یہ ضرورت پیش آئی کہ نیا پیغمبر آئے اور وہ انسان کو دوبارہ مستند ہدایت عطا کرے ۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی لائی ہوئی خدائی ہدایت ، قرآن اور سنت کی شکل میں کامل طور پر محفوظ ہوگئی ، اس لیے آپ کے بعد کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔ پیغمبر کا آنا ایک بے حد سنگین معاملہ ہوتا ہے۔ جب ایک زندہ پیغمبر موجود ہو تو اُس وقت انسان کے لیے ایک ہی انتخاب (option) باقی رہتا ہے، یہ کہ وہ پیغمبر کا اقرار کرے۔ اقرار نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر کے معاصرین کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے خدا کی یہ اسکیم نہیں کہ دنیا میں ہمیشہ ایک زندہ پیغمبر موجود رہے۔ خدا کی اسکیم کے مطابق ، اصل مطلوب یہ ہے کہ خدا کی ہدایت ہمیشہ محفوظ اور غیر محرف حالت میں موجود رہے۔ جب خدائی ہدایت کا متن (text) محفوظ ہو جائے اور اُس میں تحریف کا امکان باقی نہ رہے، تو زندہ پیغمبر کا موجود ہونا ، غیر ضروری ہو جاتا ہے ۔ یہی واقعہ پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد پیش آیا۔ خدا کی کتاب انسان کے لیے ایک بک آف ریفرنس (book of reference) کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب ایک محفوظ بک آف ریفرنس دستیاب ہو جائے، تو اس کے بعد نئے پیغمبر کی بعثت اپنے آپ غیر ضروری ہو جاتی ہے۔

پیغمبرانہ ہدایت کی ابدیت

پیغمبر کے ذریعے خدا کی جو ہدایت آتی ہے، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہوتی ہے۔ قرآن میں پیغمبرانہ ہدایت کو روشن آفتاب سے تشبیہ دی گئی ہے (46 : 33)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ہدایت اُسی طرح ابدی ہوتی ہے جس طرح آفتاب کی روشنی انسان کے لیے ابدی ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تبدیلی زمانہ کے حوالے سے نئے پیغمبر کی ضرورت کو بتانا، ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ زمانے کی تبدیلی، یا مادی تہذیب کی نئی ترقی کا کوئی تعلق نئی نبوت سے نہیں ہے۔ زمانے کی تبدیلی سے اگر کوئی عملی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف نئے اجتہاد کی ضرورت کو ثابت

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page