I have not been sent to you for this purpose.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۹
کرتا ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔ مثلاً مسح علی الخفین کے مسئلے کو لیجیے۔ قدیم زمانے میں چمڑے کے موزے ہوا کرتے تھے۔ اُس وقت چمڑے کے موزے کے حوالے سے مسح علی الخفین کا مسئلہ بتایا گیا۔ اب صنعتی ریشوں سے تیار کیے ہوئے موزوں کا زمانہ ہے۔ یہ تبدیلی اجتہاد کی ضرورت کو بتاتی ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔ اس طرح کے بدلے ہوئے حالات میں صرف یہ کافی ہے کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں صورتِ موجودہ پر شرعی حکم کا از سرِ نو انطباق (re-application) کیا جائے۔ اسی کا نام اجتہاد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے، تو اس وقت وہاں آب پاشی (irrigation) کا مسئلہ تھا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ آپ خدا کی مدد سے ہمارے اس مسئلے کو حل کیجیے۔ آپ نے فرمایا: ما بهذا بُعثتُ إليكم (السيرة النبوية لابن هشام، جلد 1، صفحہ 316) یعنی میں تمھارے پاس اس کام کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں:
I have not been sent to you for this purpose.
اسی طرح جب آپ مدینہ میں تھے تو وہاں کے حالات کے اعتبار سے بعض مسائل پیدا ہوئے، جو باغ بانی (horticulture) سے تعلق رکھتے تھے۔ وہاں کے لوگوں نے اس معاملے میں آپ سے مشورہ حاصل کرنا چاہا۔ آپ نے دوبارہ ان کو وہی جواب دیا جو آپ مکہ کے لوگوں کو دے چکے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ: أنتم أعلم بأمر دنیاکم (صحیح مسلم، کتاب الفضائل) یعنی تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو:
You know better about your worldly matters.
آب پاشی، باغ بانی، فن تعمیر اور صنعت جیسی چیزوں کا تعلق انسانی تہذیب سے ہے۔ تہذیب کا عمل ہمیشہ انسانی تحقیق و جستجو پر مبنی ہوتا ہے۔ اس معاملے کو خدا نے انسان کے اپنے اوپر چھوڑ دیا ہے۔ تا ہم جہاں تک ہدایت کا معاملہ ہے، اُس کا تعلق خدائی وحی سے ہے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے لیے خدا نے وحی و نبوت کا سلسلہ جاری کیا۔
مشہور فرانسیسی مصنف ڈاکٹر الکس کیرل (وفات: 1944) نے 1935 میں ایک کتاب شائع کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues